LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

انٹرنیٹ کا 35 فی صد نیا مواد اے آئی سے تحریر کیے جانے کا انکشاف

Web Desk

24 August 2026

پیُو ریسرچ سینٹر کی ایک جدید تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے اجرا کے بعد انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے 35 فیصد سے زائد نئے ویب پیجز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تحریر یا ایڈیٹنگ کیے جانے کے واضح آثار پائے گئے ہیں۔ محققین نے گزشتہ پانچ برسوں کے پانچ لاکھ سے زائد انگریزی ویب پیجز کو ‘اوپن پروگرام’ نامی ٹول کے ذریعے جانچنے کے بعد بتایا کہ مجموعی طور پر 10 فیصد پیجز پر اے آئی کا عمل دخل رہا، لیکن حالیہ عرصے میں اس کی شرح تیزی سے بڑھی ہے۔ یہ نتائج ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انٹرنیٹ پر انسانی مواد کے بجائے بوٹس اور خودکار نظاموں کے غلبے یعنی “ڈیڈ انٹرنیٹ تھیوری” کے حوالے سے عالمی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مستقبل میں انسانی اور اے آئی مواد کے درمیان فرق کرنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔