LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اسلام آباد میں کسی بھی صورت چڑھائی نہیں ہونے دے گی: طارق فضل چودھری فیلڈ مارشل سے انتونیو گوتریس کی ملاقات: سکیورٹی، کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر تبادلہ خیال ایران نے ہتھیاروں کی رینج بڑھانے کی پالیسی واضح کردی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کیلئے رفقا کی فہرست جیل حکام کو ارسال پاکستان نیوی کی بحیرہ عرب میں بڑی کارروائیاں، 96 ملین ڈالر مالیت کی منشیات برآمد بیرسٹر گوہر کا حکومت سے غیر مشروط مذاکرات کا مطالبہ پاکستان اور جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا: رانا ثناء ایم ٹی آنر 25 کے مزید 3 پاکستانی کریو ارکان بھی وطن واپس روانہ سموگ اور فوگ کا خدشہ: بلدیاتی الیکشن اپریل 2027 میں کرانے کی تجویز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر پاکستان کی سفارتی کامیابی، اقوام متحدہ میں پانی سے متعلق قرارداد منظور بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر مریم نواز سے عمانی وزیر کی ملاقات، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبے میں دلچسپی

حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی

Web Desk

21 August 2026

اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت کے احکامات کی مسلسل عدولی کے خلاف توہینِ عدالت کی باضابطہ درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں۔

میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے حکمرانوں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ موجودہ حکمران عدالتوں کے تصدیق شدہ فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

سہیل آفریدی نے مزید واضح کیا کہ اپوزیشن اور پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاجی مارچ کی کال اپنی جگہ مکمل طور پر قائم ہے اور اس تاریخ پر تمام سیاسی قیادت اور اتحادی مکمل طور پر متفق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا بائیکاٹ اور احتجاج ہمارا آئینی حق ہے اور اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک اہم مشاورتی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں آئندہ کی مکمل سیاسی حکمتِ عملی اور قانونی لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے گی۔