LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایم ٹی آنر 25 کے مزید 3 پاکستانی کریو ارکان بھی وطن واپس روانہ سموگ اور فوگ کا خدشہ: بلدیاتی الیکشن اپریل 2027 میں کرانے کی تجویز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر پاکستان کی سفارتی کامیابی، اقوام متحدہ میں پانی سے متعلق قرارداد منظور بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر مریم نواز سے عمانی وزیر کی ملاقات، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبے میں دلچسپی خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، سرمایہ کاروں کی توجہ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج پر مرکوز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح امریکا کا کرس مرفی کو العدید ایئربیس تک رسائی دینے سے انکار آبنائے ہرمز مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوج کا پھر دعویٰ

بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد

Web Desk

7 October 2026

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں بیرئیر ہٹانے کے کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا کی سربراہی میں ہوئی۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر شیریں مزاری اور دیگر وکلاء عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ دفاعی ٹیم اور وکیل زینب جنجوعہ نے شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود جیل میں ان کی اپنے مؤکلین سے ملاقات نہیں کرائی گئی اور نہ ہی انہیں قانونی کارروائی کی کاپیز فراہم کی گئیں، لہٰذا قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔ تاہم، عدالت نے تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی اور جج طاہر عباس نے وکلاء کو اس حکم کو چیلنج کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی کارروائی 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی اور استغاثہ کے گواہوں کو بھی طلب کر لیا ہے۔