بیوی کی واضح اور آزادانہ رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جاسکتی، سپریم کورٹ کا اہم تحریری حکم نامہ جاری
Web Desk
7 October 2026
سپریم کورٹ نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ بیوی کی واضح اور آزادانہ رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی۔ عدالت عظمیٰ کے حکم نامے کے مطابق تنسیخِ نکاح کی درخواست کو خاتون کی رضامندی کے بغیر خلع میں تبدیل کرنا غیر قانونی ہے، اور ظلم و زیادتی ثابت نہ ہونے پر عدالت خود خلع کا انتخاب نہیں کر سکتی کیونکہ خلع اور قانون کے تحت تنسیخِ نکاح الگ راستے ہیں جن کے مالی نتائج بھی مختلف ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ غیر رضاکارانہ خلع کے ذریعے خاتون کو حق مہر سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلہ میں دو خواتین کے نکاحوں کی تنسیخ کو خلع کے بجائے ’شقاق‘ (شدید اور مسلسل ازدواجی اختلاف) کی بنیاد پر برقرار رکھا گیا، تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ معمولی جھگڑے یا عارضی علیحدگی شقاق کے لیے کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے بامعنی مصالحت کی ناکامی اور عدالت کا مطمئن ہونا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے خلع کی بنیاد پر حق مہر واپس کرنے یا چھوڑنے کی ہدایات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں مقدمات میں نان نفقہ اور جہیز کے سامان سے متعلق فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
اسلام آباد پر لشکر کشی کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، تمام وسائل بروئے کار لائیں گے: خواجہ آصف
7 October 2026
7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کو شکست دی: حافظ نعیم الرحمان
7 October 2026
بیلاروسی وفد کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
7 October 2026
محسن نقوی، طلال چوہدری سے برطانوی وزیر مملکت خارجہ امور سٹیفن ڈوٹی کی ملاقات
7 October 2026
صومالی بحری قزاقوں سے بازیاب تین پاکستانی کراچی پہنچ گئے
7 October 2026
کوئٹہ سے پنجگور جاتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج اسد اللہ رئیسانی لاپتا
7 October 2026
عالمی مسائل کے حل کیلئے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کا کردار مزید اہم ہو گیا: اسحاق ڈار
7 October 2026
سینیٹر فاروق ایچ نائیک جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے مستعفی
7 October 2026