LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

چاند کی سطح پر راکٹ ٹکرانے کے بعد بننے والے گڑھے کی تصاویر جاری

Web Desk

20 August 2026

واشنگٹن: امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ‘ناسا’ (NASA) نے چاند کی سطح پر مشہور امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کے فالکن 9 راکٹ کے اوپری حصے کے ٹکرانے کے بعد بننے والے گڑھے (Crater) کی اب تک کی سب سے واضح اور باریک بین تصاویر جاری کر دی ہیں۔

ناسا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ کا استعمال شدہ اوپری حصہ 5 اگست 2026 کو تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ (5,400 میل فی گھنٹہ) کی خوفناک رفتار سے چاند کی سطح سے ٹکرایا تھا۔ یہ راکٹ جنوری 2025 میں زمین سے لانچ کیا گیا تھا اور اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد ایک سال سے زائد عرصے تک خلا میں غیر کنٹرول شدہ حالت میں گردش کرتا رہا۔

یہ راکٹ سال 2025 میں دو نجی قمری مشنز اور ایک چھوٹی روور گاڑی (Rover Vehicle) کو چاند کی سمت روانہ کرنے کی مہم کا حصہ تھا، جس کا مقصد چاند کی تلاش اور تسخیر میں نجی تجارتی کمپنیوں کے کردار کو بڑھانا تھا۔ ناسا کی جانب سے جاری کی گئی نئی سیٹلائٹ تصاویر میں راکٹ کے ٹکرانے سے پہلے اور بعد کے قمری مناظر کا موازنہ کر کے واضح نشانات دکھائے گئے ہیں۔

فلکیاتی سائنس دانوں اور محققین کا کہنا ہے کہ راکٹ کی شدید ٹکر کے نتیجے میں چاند کی سطح پر بننے والا نیا گڑھا تقریباً 60 فٹ چوڑا اور 10 فٹ سے کم گہرا ہے۔ جاری کردہ تصاویر میں گڑھے کے گرد چاند کی سطح پر روشن اور گہرے رنگ کے دھبے اور لکیریں دکھائی دیتی ہیں، جو ٹکراؤ کے بعد اڑنے والی چاند کی مٹی اور ملبے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ناسا کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر فلکیاتی ماہرین کو قمری سطح پر مصنوعی اجسام کے اثرات اور مٹی کی بناوٹ کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی۔