LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

’آسیب‘ کا خوف، 600 طلبہ نے بورڈنگ سکول چھوڑ دیا

Web Desk

17 August 2026

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے گاؤں ڈوما میں واقع ایک سرکاری بورڈنگ سکول کے تقریباً 600 طلبہ پراسرار خوف اور آسیبی افواہوں کے باعث ہاسٹل چھوڑ کر گھروں کو لوٹ گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 22 جولائی کو سکول کی 4 طالبات اچانک بے قابو ہو کر چیخنے چلانے، رونے اور بعد میں غیر معمولی انداز میں ہنسنے لگیں۔ اس واقعے کے فوراً بعد سکول میں یہ افواہ پھیل گئی کہ طالبات پر آسیب کا سایہ ہے، جبکہ بعض دیگر بچوں نے پازیب بجنے کی عجیب آوازیں سنائی دینے کا دعویٰ بھی کیا۔ مجموعی طور پر 810 طلبہ والے اس ادارے سے خوف کے باعث چند دنوں میں ہی اکثریت خالی ہو گئی۔

سکول اور ہاسٹل کا معائنہ کرنے والے صحت کے ماہرین نے کسی بھی قسم کی مافوق الفطرت یا پراسرار طاقت کے شواہد کو مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شدید ذہنی دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ماس ہسٹیریا (Mass Hysteria) کی کیفیت ہے، جس کے اثرات بعد میں گاؤں کی بعض دیگر خواتین میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق واقعے کو لے کر علاقے میں مختلف مفروضے پھیل گئے۔ کچھ کا ماننا تھا کہ سکول میں موجود ‘مہوا’ کا پرانا درخت کاٹنے سے ارواح ناراض ہوئیں، جبکہ بعض نے اسے مقامی مندر کی بے حرمتی اور ایک قبائلی نوجوان کی موت سے جوڑ دیا۔سکول کے سربراہ سنجے چوہدری کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام اور ماہرینِ نفسیات کی ٹیمیں بچوں اور والدین کی کونسلنگ کر رہی ہیں، خوف کے بادل چھٹنے کے بعد کچھ طلبہ نے واپس آنا شروع کر دیا ہے۔