LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

مریم نواز شریف میڈیکل کالج میانوالی کو باقاعدہ میڈیکل انسٹی ٹیوشن کا درجہ مل گیا

Web Desk

16 August 2026

گورنر پنجاب نے پنجاب میڈیکل اینڈ ہیلتھ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ 2003ء کے تحت مریم نواز شریف میڈیکل کالج میانوالی کو باقاعدہ میڈیکل انسٹی ٹیوشن کا درجہ دینے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے 15 اگست 2026ء کو اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اس قانون کے فوری اطلاق کے ساتھ ہی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال میانوالی کو کالج کے ساتھ بطور اٹیچڈ ہسپتال منسلک کر دیا گیا ہے۔ صوبائی کابینہ کی منظوری سے دونوں اداروں کے انتظامی امور چلانے کے لیے 6 رکنی ایڈمنسٹریشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں سیکرٹری خزانہ پنجاب، کمشنر سرگودھا ڈویژن، ڈپٹی کمشنر میانوالی اور پرنسپل مریم نواز شریف میڈیکل کالج سمیت دیگر متعلقہ حکام شامل ہیں۔ باقاعدہ بورڈ آف مینجمنٹ کے قیام تک یہ ایڈمنسٹریشن کمیٹی ہی تمام اختیارات اور انتظامی امور کی نگرانی سنبھالے گی، جس سے علاقے میں طبی تعلیم اور صحت کی سہولیات کا ادارہ جاتی ڈھانچہ مکمل ہو گیا ہے۔