ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور
Web Desk
28 October 2026
روس کے دارالحکومت ماسکو میں تیسرے ’روس-افریقہ سربراہی اجلاس‘ اور اقتصادی و انسانی تعاون فورم کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں افریقی براعظم کے 48 ممالک کے وفود شریک ہیں جبکہ 22 ممالک کی نمائندگی براہ راست سربراہان مملکت کی سطح پر کی جا رہی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے افتتاحی پلینری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دنیا میں کثیر قطبی نظام کی تشکیل اب ایک ناقابلِ واپسی عمل ہے، اور وہ پرانا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو رہا ہے جب چند طاقتیں پوری دنیا کے مستقبل کے فیصلے کیا کرتی تھیں۔ دو روزہ سربراہی اجلاس 28 اور 29 اکتوبر کو ماسکو کے تاریخی ’گوستینی دوور‘ میں جاری ہے، جس کی مشترکہ صدارت روسی صدر ولادیمیر پوتن اور افریقی یونین کے موجودہ چیئرمین و برونڈی کے صدر ایوارست ندائیشیمیے مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ افریقی رہنماؤں کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر پوتن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روس افریقی ممالک کے ساتھ مکمل برابری، باہمی احترام اور قومی خودمختاری کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ عالمی سیاست اور معیشت میں تیزی سے ایک کلیدی مقام حاصل کر رہا ہے، تاہم بعض طاقتیں اپنی سابقہ بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے تجارتی جنگوں، اقتصادی پابندیوں اور سیاسی دباؤ جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہی ہیں۔
روسی صدر نے نوآبادیاتی دور کے باقی ماندہ منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عالمی مالیاتی اداروں میں افریقی ممالک کی نمائندگی میں نمایاں اضافہ کیا جانا چاہیے، اور افریقی عوام کو اپنے قدرتی وسائل پر مکمل اختیار اور اپنی ترقی کی ترجیحات خود طے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس دو روزہ فورم کے دوران زراعت، توانائی، صنعت، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں تقریباً چار ہزار روسی اور افریقی کاروباری شخصیات شریک ہیں، جبکہ 40 سے زائد موضوعاتی نشستیں بھی اس کا حصہ ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر روس-افریقہ تعاون سے متعلق مشترکہ اعلامیے، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون اور 2027 سے 2029 تک کی شراکت داری کے عملی منصوبے کی منظوری دیے جانے کا قوی امکان ہے۔ واضح رہے کہ پہلا روس-افریقہ سربراہی اجلاس 2019 میں سوچی جبکہ دوسرا 2023 میں سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد ہوا تھا۔
متعلقہ عنوانات
برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار
28 October 2026
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع
28 October 2026
روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی
28 October 2026
مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی
28 October 2026
حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ
28 October 2026
روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط
28 October 2026
گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا
28 October 2026
ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان
28 October 2026