LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

ایک ہی فلائٹ نمبر کے دو طیارے آمنے سامنے، مسافر بال بال بچ گئے

Web Desk

15 August 2026

امریکا میں ایئر ٹریفک کنٹرولر کی بروقت حاضردماغی اور مہارت نے ایک ہی فلائٹ نمبر سے پرواز کرنے والے دو مسافر طیاروں کو ممکنہ حادثے اور تصادم سے بچا لیا۔ امریکی فضائی کمپنی ‘امریکن ایئرلائنز’ کے دو مختلف طیارے اتفاقاً ایک ہی کال سائن اور فلائٹ نمبر 2482 کے تحت پرواز کر رہے تھے، جن میں سے ایک طیارہ شکاگو سے فینکس پہنچ رہا تھا جبکہ دوسرا فینکس ایئرپورٹ سے پرواز کر کے روانہ ہو رہا تھا۔ دونوں طیاروں کا ایک ہی فلائٹ نمبر ہونے کی وجہ سے شدید خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ پائلٹس ایئر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے ملنے والی ہدایات کو غلط سمجھ کر کسی خطرناک صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں، بالخصوص اس وقت جب دونوں کے فضائی راستے ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ چکے تھے۔

صورتحال کی نزاکت کو فوری بھانپتے ہوئے ایئر ٹریفک کنٹرولر نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا اور دونوں طیاروں کو باہم الجھن سے بچانے کے لیے الگ الگ شناختی نام دے دیے، جس کے تحت آنے والے طیارے کو ‘ارائیول’ اور جانے والے طیارے کو ‘ڈیپارچر’ کہہ کر ہدایات دینا شروع کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی کنٹرولر نے فضا میں حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے لینڈنگ کرنے والے طیارے کو زیادہ بلندی پر رکھا جبکہ ٹیک آف کرنے والے طیارے کو عارضی طور پر مزید اوپر جانے سے روک دیا، جس سے دونوں کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رہا۔ کنٹرولر کے اس ہنگامی و سمارٹ اقدام کے باعث دونوں پروازیں بحفاظت اپنی منزلوں کی جانب گامزن ہو گئیں اور ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔