LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی سعودی عرب میں بدھ تک شدید گرمی، درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی عراق میں بس اور ٹرک میں تصادم، 7 سیاح جاں بحق، 23 زخمی آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے: ایران سعودی عرب میں قوانین کی خلاف ورزی پر 14 ہزار غیر ملکی گرفتار یہودی آباد کاروں کا مسجد اقصیٰ میں زبردستی تلمودی رسومات ادا کرنے کے واقعات میں اضافہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا ہر 30 منٹ میں ایک جان لینے لگی: ڈبلیو ایچ او انڈونیشیا میں زلزلے سے اموات 51 ہو گئیں، 341 آفٹر شاک ریکارڈ امریکی ریاست انڈیانا میں طوفان، سیلاب سے 6 افراد ہلاک، لاکھوں افراد بجلی سے محروم چین نے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کی نئی کھیپ خلا میں بھیج دی یمن میں 48 گھنٹوں کے دوران 200 سے زائد حوثی باغی ہلاک ہو گئے ٹرمپ انتظامیہ کے ایران سے خفیہ رابطوں کا انکشاف افغانستان کا کابل میں امریکی سفارتخانہ کھولنے کا مطالبہ، واشنگٹن کا صاف انکار سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی ہی سب سے مستحکم سرمایہ کاری ہے: یاسمین فواد مودی سرکار کی پالیسیوں سے تنگ کاکروچ جنتا پارٹی کا ’’سکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کا آغاز

قطر اور پاکستان کیساتھ پیغامات کا تبادلہ کررہے ہیں: ایران کی تصدیق

Web Desk

14 August 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ رابطہ ذرائع پر اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ضرور جاری ہے، لیکن اسے واشنگٹن کے ساتھ باقاعدہ یا براہِ راست مذاکرات کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے اپنے ایک اہم بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کی بحالی سے متعلق فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی فوری طور پر ایسے مذاکرات کی بحالی کا کوئی واضح امکان نظر آتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر اور پاکستان بطور ثالثی و سفارتی رابطے کے ذرائع استعمال ہو رہے ہیں اور ان کے ذریعے فریقین کے مابین صرف پیغامات پہنچائے جا رہے ہیں۔

سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ تہران اپنے قومی مفادات اور دفاعی ترجیحات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہی کوئی اگلا قدم اٹھائے گا۔ فی الوقت پاکستان اور قطر کے ذریعے جاری یہ غیر مستقیم سفارتی رابطے کشیدگی میں کمی اور پیغامات کی ترسیل تک محدود ہیں اور اسے کسی پیش رفت یا باضابطہ سفارتی مذاکراتی عمل سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔