LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق یوکرین نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا: عباس عراقچی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں: یمنی وزیراعظم ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز

عدلیہ کے حال پر سندھ ہائی کورٹ نوٹس لے، عدالت کے فیصلوں پر سوالات اٹھا دیے: فاروق ستار

Web Desk

10 December 2025

کراچی: ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے عدالتی فیصلوں اور حالیہ عدالتی رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کہہ رہی ہے کہ پاکستان بچا کر آئے یا تڑوا کر آئے، اور یہ بھی کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی دہشت گردی کیسے ہو سکتی ہے؟

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ عدالت کے مطابق گاڑیوں کو آگ لگانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، پھر بھی بغیر سنے فیصلہ سنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کہتی ہے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹنا جہالت ہے، انہیں گرفتار کرنا جہالت ہے، تو سوال یہ ہے کہ کسی کے دل و ارادے کو بھانپ کر عدالت فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ عدلیہ کا رویہ کھلا ہونا چاہیے۔ عدالتی احترام اپنی جگہ لیکن موجودہ صورتحال پر سندھ ہائی کورٹ کو نوٹس لینا چاہیے۔فاروق ستار نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کیا گیا، گورنر سندھ کو دھمکیاں دی گئیں، اور وزیر اعلیٰ سندھ آئینی و قانونی طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتی کارروائی کے طریقۂ کار اور حالیہ فیصلوں کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں جن کا سنجیدگی سے جائزہ ضروری ہے