LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
محسن نقوی ایران روانہ، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر اہم بات چیت متوقع ملکی ترقی اور خوشحالی پی ٹی آئی کو ہضم نہیں ہو رہی: عطا تارڑ آزاد کشمیر الیکشن: ایل اے 15 اور ایل اے 16 کے 23 پولنگ سٹیشنز پر ری پولنگ کا فیصلہ یوکرین کا مگ-29 لڑاکا طیارہ گر کرتباہ عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ امریکا ایران کشیدگی کے حل کے لیے دنیا کی نظریں پاکستان، قطر اور عمان پر مرکوز شامی عدالت نے معزول صدر بشارالاسد کو سزائے موت سنادی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بحرین کا خیرمقدم کسٹمز بانڈڈ وئیر ہاؤسز میں کسی بھی بے ضابطگی کی گنجائش نہیں: وزیراعظم موجودہ الیکشن میں لوگوں کی رائے پر حکومتیں نہیں بنیں: حافظ نعیم الرحمٰن میٹرو بس سروس بندش کا خطرہ ٹل گیا، ویڈا اور ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں اتفاق وزیراعظم سے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج کی ملاقات آئی ایم ایف پروگرام: پانچویں قسط کے حصول کے لئے تیاریاں شروع پاکستان کے 1100 سے زائد نوادرات کی بیرونِ ملک سے واپسی کوئٹہ سے دیگر صوبوں کو جانے والی ٹرین سروس ایک روز کیلئے معطل

پاکستان کے 1100 سے زائد نوادرات کی بیرونِ ملک سے واپسی

Web Desk

11 August 2026

پاکستان نے سفارتی کوششوں اور عالمی اداروں کے تعاون سے امریکہ، اٹلی، فرانس اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے 1100 سے زائد قدیم و نادر نوادرات کامیابی سے واپس حاصل کر لیے ہیں۔ ہزاروں سال پرانی مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے ان نادر فن پاروں کو اسلام آباد میوزیم میں عمومی نمائش کے لیے رکھ دیا گیا ہے، جسے دیکھنے کے لیے ملک بھر سے شہریوں کے علاوہ امریکہ، چین اور جنوبی کوریا کے غیر ملکی ماہرین اور سیاح بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں

وزارتِ ثقافت کے ذرائع کے مطابق ان نوادرات میں 7,000 سال پرانے مہرگڑھ کے ٹیراکوٹا مجسمے، وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آثار، قدیم سکے، مٹی کے برتن اور 2,000 سال پرانے گندھارا آرٹ کے شاہکار شامل ہیں۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ اشیا کسی پاکستانی میوزیم سے چوری نہیں ہوئی تھیں بلکہ ان میں سے اکثر تقسیمِ ہند سے قبل برصغیر سے منتقل ہوئیں یا طویل عرصے سے بیرونِ ملک نجی کلیکشنز میں موجود تھیں۔ نوادرات کی بازیابی میں امریکہ کے ساتھ 2023 میں ثقافتی املاک کی غیر قانونی تجارت روکنے کا معاہدہ اور بھارت سے تعلق رکھنے والے بدنامِ زمانہ آرٹ ڈیلر سبھاش کپور کی گرفتاری کے بعد ہونے والی بین الاقوامی تحقیقات نے کلیدی کردار ادا کیا۔

پاکستان نے گندھارا آرٹ پر بھارتی ملکیت کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گندھارا کا مرکزی و تاریخی خطہ موجودہ پاکستان کے علاقوں ٹیکسلا، سوات، پشاور اور پنجاب و خیبر پختونخوا پر مشتمل ہے۔ جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی ماہرِ تاریخ ڈاکٹر ایستھر پارک نے اسلام آباد میوزیم کے دورے کے موقع پر گندھارا آرٹ کو چین، کوریا اور جاپان کے ساتھ اہم ثقافتی رابطہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کے اس قدم کو عالمی ورثے کے تحفظ کے لیے سنگِ میل قرار دیا۔