LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک میں بھی شامل ہوں گے: ترک صدر کیلیفورنیا اسٹیٹ اسمبلی میں پاک امریکا تعلقات کو خراج تحسین کی تاریخی قرارداد منظور امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 2 افراد ہلاک آسٹریا: روسی دفاعی صنعت کو سامان کی فراہمی پر 2 بیلا روسی شہریوں کو سزا سنا دی گئی امریکہ میں جعلی شادیوں کے ذریعے امیگریشن فراڈ کا بڑا سکینڈل بے نقاب کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں عہدہ چھوڑ دیں گی، ٹرمپ امریکا کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال کرنےکی کوشش پر ایران کی سخت ردعمل کی دھمکی عراق نے اکتوبر تک غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی ختم کرنےکا عزم ظاہر کر دیا ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا ایرانی عدالت نے اسرائیلی اور امریکی مفادات کیلئےکام کرنےکے الزام میں خاتون صحافی کو 15 سال قید کی سزا سنادی انقرہ میں ٹرمپ کے طیارے پر حملے کی سازش کی اسرائیلی رپورٹ جعلی ہے، ترک حکام امریکا کے وفاقی بجٹ خسارے میں ریکارڈ اضافہ کانگریس رکنِ الہان عمر نے مینیسوٹا سے ڈیموکریٹک پرائمری جیت لی بجلی صارفین پر اگلے 3 ماہ کیلئے 23 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر کے الیکشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی: طارق فضل چودھری

نئی دہلی کے بعد رانچی میں بھی طلبا پر بھارتی پولیس کا بدترین لاٹھی چارج

Web Desk

10 August 2026

بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں سرکاری ملازمتوں کے مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور بدعنوانی کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے، جہاں مظاہرین نے اسمبلی کی جانب مارچ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا اور بعض مقامات پر لاٹھی چارج بھی کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق طلبہ کا احتجاج کئی روز سے جاری ہے اور پیر کو مظاہرین نے بڑی تعداد میں اسمبلی کی جانب پیش قدمی کی۔ طلبہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (JSSC) کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات اور فوری اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں امیدوار ٹرینوں، بسوں اور دیگر ذرائع سے رانچی پہنچے۔ طلبہ نے ہاتھوں میں بھارتی پرچم اور مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

مظاہرین نے اسمبلی کی جانب بڑھتے ہوئے پولیس کی قائم کردہ متعدد رکاوٹوں کو توڑ دیا۔ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، تاہم کئی مظاہرین پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھتے رہے۔ اس دوران بعض مقامات پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔

طلبہ کا بنیادی مطالبہ مختلف بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور معاملے کی مرکزی تحقیقاتی ادارے (CBI) سے انکوائری کروانا ہے۔ مظاہرین خاص طور پر جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن کے 2024 کے مشترکہ گریجویٹ لیول (CGL) امتحان کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طلبہ اور ریاستی حکومت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں، تاہم اہم مطالبات پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ احتجاج کی قیادت کرنے والے دیویندر ناتھ مہتو کئی روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور طبیعت خراب ہونے کے باوجود اسمبلی مارچ میں شریک ہوئے۔ اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نے طلبہ کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، لیکن احتجاجی طلبہ حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔

دوسری جانب جھارکھنڈ میں بھرتی امتحانات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے معاملے کے مالی پہلوؤں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور بدعنوانی نے لاکھوں امیدواروں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے، اس لیے صرف انتظامی اصلاحات کے بجائے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔