LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

امریکہ میں جعلی شادیوں کے ذریعے امیگریشن فراڈ کا بڑا سکینڈل بے نقاب

Web Desk

12 August 2026

امریکہ میں جعلی شادیوں کے ذریعے قانونی امیگریشن حاصل کرنے کا ایک بڑا اور منظم اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے اس دھوکہ دہی کے منصوبے میں ملوث 11 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی ہے، جن پر گزشتہ ایک دہائی (10 سال) کے دوران 1,000 سے زائد جعلی شادیاں کروانے کا سنگین الزام ہے۔ ان شادیوں کا بنیادی مقصد زیادہ تر چینی شہریوں کو امریکہ میں قانونی رہائشی حیثیت (گرین کارڈ) دلوانا تھا۔

امریکی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات اور تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، غیر ملکی (خصوصاً چینی) شہریوں نے اس 6 رکنی گینگ کے سہولت کاروں کو فی شادی 1 لاکھ (100,000) ڈالر تک کی بھاری رقم ادا کی۔ یہ سہولت کار نہ صرف امریکی شہریوں کے ساتھ ان کی جعلی شادیوں کا بندوبست کرتے تھے بلکہ قانونی کارروائیوں کو کامیابی سے انجام دینے کا ذمہ بھی لیتے تھے۔

فردِ جرم کے مطابق، جن امریکی شہریوں کو ان جعلی شادیوں کا حصہ بنایا جاتا تھا، انہیں اس غیر قانونی عمل پر آمادہ کرنے کے عوض 30 ہزار ڈالر تک کی رقم ادا کی جاتی تھی۔ نیٹ ورک کے ملزمان امیگریشن کے جعلی اور قانونی دستاویزات تیار کرواتے تھے اور پھر امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے پاس جمع کرواتے تھے تاکہ چینی شہری کامیابی سے امریکہ کے قانونی مستقل رہائشی کا درجہ حاصل کر سکیں۔