LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

آسٹریا: روسی دفاعی صنعت کو سامان کی فراہمی پر 2 بیلا روسی شہریوں کو سزا سنا دی گئی

Web Desk

12 August 2026

آسٹریا کی ایک عدالت نے عالمی برآمدی پابندیوں کی سنگین خلاف ورزی کا مجرم قرار دیتے ہوئے دو بیلا روسی شہریوں کو سزا سنا دی ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں ملزمان پر روسی کمپنیوں کو ایسا حساس صنعتی سامان اور مشینیں فراہم کرنے کا الزام ثابت ہوا ہے جسے آسٹریا کی حکومت کے مطابق میزائلوں اور جنگی لڑاکا طیاروں کے انجن سمیت مختلف فوجی سازوسامان کی تیاری میں استعمال کیا جاتا تھا۔

تحقیقات اور استغاثہ کی دستاویزات کے مطابق کیس کا مرکزی ملزم 28 سالہ شخص تھا، جو ویانا میں قائم ایک تجارتی کمپنی کا ڈائریکٹر تھا۔ اس نے تیسرے ممالک میں قائم متعدد جعلی یا کاغذی (شیل) کمپنیوں کے ایک بڑے نیٹ ورک اور جعلی ‘اینڈ یوزر سرٹیفکیٹس’ کا سہارا لیتے ہوئے روس کو خصوصاً دھاتی کام کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور مشینیں بھیجیں۔ کیس میں نامزد دوسری ملزمہ 24 سالہ خاتون تھی، جو اس کمپنی میں شراکت دار ہونے کے ساتھ ساتھ تمام مالیاتی حساب کتاب دیکھتی تھی۔

عدالتی کارروائی کے دوران دونوں ملزمان نے اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا۔ عدالت نے مرکزی ملزم کو 21 ماہ قید کی سزا سنائی، تاہم اس میں سے 19 ماہ کی سزا معطل کر دی گئی۔ چونکہ وہ رواں سال مئی سے ہی حراست میں تھا، اس لیے عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے اسے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ دوسری جانب خاتون ملزمہ کو 15 ماہ کی معطل شدہ سزا سنائی گئی۔ دونوں ملزمان نے عدالت کے اس فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ میں اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔