بجلی صارفین پر اگلے 3 ماہ کیلئے 23 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل
Web Desk
12 August 2026
جلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے کپیسٹی پیمنٹ اور آپریشنل اخراجات کی مد میں صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے عوامی سماعت مکمل کر لی ہے۔ چیئرمین نیپرا کی سربراہی میں ہونے والی اس سماعت میں رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 1 روپیہ فی یونٹ اضافے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ کمپنیوں نے مجموعی طور پر 49 ارب 74 کروڑ روپے وصول کرنے کی اجازت مانگی ہے، جس میں سے 23 ارب روپے سے زائد کی رقم صرف کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں مانگی گئی ہے۔
سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بتایا کہ بجلی کمپنیوں نے آپریشن اینڈ مینٹیننس (O&M) کے اخراجات کے لیے 4 ارب 95 کروڑ روپے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر صنعتی صارفین نے مجوزہ اضافے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مؤخر کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ انڈسٹری اور عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ ثابت ہو گا۔
سماعت کے دوران پاور ڈویژن کے حکام نے مؤقف اپنایا کہ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی سولرائزیشن کے باعث قومی گرڈ سے بجلی کی فروخت میں کمی آ رہی ہے، جس پر ممبر نیپرا انور مقصود نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سولر سسٹم نہ ہوتے تو اس وقت ملک میں شدید ترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہوتا، لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ صرف سولر کی وجہ سے بجلی نہیں بک رہی۔ نیپرا نے تمام فریقین کے دلائل اور پیش کردہ اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جسے جلد جاری کیا جائے گا۔
متعلقہ عنوانات
بیرسٹر گوہر کی راجہ ناصر عباس سے ملاقات: 27 ستمبر لانگ مارچ اور گرفتاریوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال
22 September 2026
عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا مزید سستا ہوگیا
22 September 2026
اسلام آباد: مفاہمت کا راستہ کبھی بند نہیں کیا، 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا: بیرسٹر گوہر
22 September 2026
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک موخر کرنے کا اعلان
22 September 2026
ایف بی آر کے گودام سے 25 کروڑ روپے کے سگریٹ غائب، مقدمہ درج
22 September 2026
کفایت شعاری مہم: قومی اسمبلی کا 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا
22 September 2026
ایران یمن میں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنا بند کرے: جی 7 ممالک کا مشترکہ بیان
22 September 2026
اسحاق ڈار کا فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد سیاسی عمل پر زور
22 September 2026