LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بیرسٹر گوہر کی راجہ ناصر عباس سے ملاقات: 27 ستمبر لانگ مارچ اور گرفتاریوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا مزید سستا ہوگیا اسلام آباد: مفاہمت کا راستہ کبھی بند نہیں کیا، 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا: بیرسٹر گوہر جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک موخر کرنے کا اعلان ایف بی آر کے گودام سے 25 کروڑ روپے کے سگریٹ غائب، مقدمہ درج کفایت شعاری مہم: قومی اسمبلی کا 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا ایران یمن میں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنا بند کرے: جی 7 ممالک کا مشترکہ بیان اسحاق ڈار کا فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد سیاسی عمل پر زور پاکستان اور لیبیا کے درمیان تجارت، تعلیم اور کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق راولپنڈی: علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاجی کیس کا ٹرائل مکمل، فیصلہ 25 ستمبر کو سنایا جائے گا اسلام آباد: ایمان مزاری اور ہادی علی کی درخواستِ ضمانت واپس، جیل حکام کو 24 ستمبر کے لیے نوٹس جاری ایرانی صدر نیویارک روانہ، عالمی برادری تک ایران کا پیغام پہنچانے کا عزم پی ٹی آئی کو اسلام آباد آکر امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: عطا تارڑ بغیر پائلٹ کے مسافر طیارے نے پہلی پرواز کامیابی سے مکمل کرلی اقوام متحدہ نے ایران جنگ ختم کرانے کیلئے پاکستان سے رابطے کی تصدیق کردی

بجلی صارفین پر اگلے 3 ماہ کیلئے 23 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل

Web Desk

12 August 2026

جلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے کپیسٹی پیمنٹ اور آپریشنل اخراجات کی مد میں صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے عوامی سماعت مکمل کر لی ہے۔ چیئرمین نیپرا کی سربراہی میں ہونے والی اس سماعت میں رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 1 روپیہ فی یونٹ اضافے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ کمپنیوں نے مجموعی طور پر 49 ارب 74 کروڑ روپے وصول کرنے کی اجازت مانگی ہے، جس میں سے 23 ارب روپے سے زائد کی رقم صرف کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں مانگی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بتایا کہ بجلی کمپنیوں نے آپریشن اینڈ مینٹیننس (O&M) کے اخراجات کے لیے 4 ارب 95 کروڑ روپے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر صنعتی صارفین نے مجوزہ اضافے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مؤخر کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ انڈسٹری اور عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ ثابت ہو گا۔

سماعت کے دوران پاور ڈویژن کے حکام نے مؤقف اپنایا کہ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی سولرائزیشن کے باعث قومی گرڈ سے بجلی کی فروخت میں کمی آ رہی ہے، جس پر ممبر نیپرا انور مقصود نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سولر سسٹم نہ ہوتے تو اس وقت ملک میں شدید ترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہوتا، لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ صرف سولر کی وجہ سے بجلی نہیں بک رہی۔ نیپرا نے تمام فریقین کے دلائل اور پیش کردہ اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جسے جلد جاری کیا جائے گا۔