LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یو ایس ایس ابراہم لنکن پر خراب حالات کی رپورٹس غلط ہیں، امریکی وزیر دفاع شیخوپورہ میں مقابلہ، لاہور میں اہلکاروں کو شہید کرنیوالے 2 دہشتگرد مارے گئے، 4 زخمی یوم آزادی پر قائداعظم، تحریک پاکستان کے رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں: اسحاق ڈار ہمارے بحری جہازوں پر قبضہ ہوا تو مناسب جواب دیں گے، روسی وزیر خارجہ ایران کے خلاف جنگ سے امریکی فوجی ذہنی دباؤ کا شکار، خودکشی کی کوششیں آزادی کا جشن: آسمان رنگ و نور سے روشن، شہر شہر شاندار آتشبازی کا مظاہرہ حکومت اور منی مزدا گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان معاملات طے پاگئے، ہڑتال ختم پاکستان ہمارا وطن، ہماری شناخت، امید اور خوابوں کی تعبیر ہے: شرجیل میمن پوری قوم کو یادگار فتح کے سائے میں جشن آزادی مبارک: شہباز شریف حکومت کا قوم کو یوم آزادی پر تحفہ، پٹرول اور ڈیزل مہنگا کردیا لاہور پولیس ٹارگٹ کلرز کی زد میں، اہلکاروں کو ہر وقت مسلح رہنے کی ہدایت ڈاکٹر ستیانجل پانڈے نے پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں اسلام آباد میں یادگار فتح کی شاندار افتتاحی تقریب، قومی اتحاد اور حب الوطنی کا مظاہرہ ایران کا امریکی و اسرائیلی انٹیلی جنس سے وابستہ 2 افراد ہلاک کرنے کا دعویٰ ایران نے مجوزہ زمینی کارروائی کی سازش ابتدا میں ہی ناکام بنا دی، ابراہیم عزیزی

بجلی صارفین پر اگلے 3 ماہ کیلئے 23 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل

Web Desk

12 August 2026

جلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے کپیسٹی پیمنٹ اور آپریشنل اخراجات کی مد میں صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے عوامی سماعت مکمل کر لی ہے۔ چیئرمین نیپرا کی سربراہی میں ہونے والی اس سماعت میں رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 1 روپیہ فی یونٹ اضافے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ کمپنیوں نے مجموعی طور پر 49 ارب 74 کروڑ روپے وصول کرنے کی اجازت مانگی ہے، جس میں سے 23 ارب روپے سے زائد کی رقم صرف کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں مانگی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بتایا کہ بجلی کمپنیوں نے آپریشن اینڈ مینٹیننس (O&M) کے اخراجات کے لیے 4 ارب 95 کروڑ روپے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر صنعتی صارفین نے مجوزہ اضافے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مؤخر کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ انڈسٹری اور عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ ثابت ہو گا۔

سماعت کے دوران پاور ڈویژن کے حکام نے مؤقف اپنایا کہ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی سولرائزیشن کے باعث قومی گرڈ سے بجلی کی فروخت میں کمی آ رہی ہے، جس پر ممبر نیپرا انور مقصود نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سولر سسٹم نہ ہوتے تو اس وقت ملک میں شدید ترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہوتا، لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ صرف سولر کی وجہ سے بجلی نہیں بک رہی۔ نیپرا نے تمام فریقین کے دلائل اور پیش کردہ اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جسے جلد جاری کیا جائے گا۔