LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک میں بھی شامل ہوں گے: ترک صدر

Web Desk

12 August 2026

ترک صدر رجب طیب اردگان نے امید ظاہر کی ہے کہ حال ہی میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے تاریخی اور اہم سہ فریقی دفاعی معاہدے میں آنے والے دنوں میں مزید ممالک بھی شامل ہوں گے۔ عالمی اخبار ‘الشرق الاوسط’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کے حوالے سے ان کا ویژن صرف تین ممالک تک محدود نہیں ہے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کو امید ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ مزید وسعت اختیار کرے گا اور شاید ایک دن ایسے حالات اور فضا پیدا ہو جائے کہ خطے کے تمام اہم ممالک اس کے واحد دائرۂ کار میں یکجا ہو کر علاقائی امن و سلامتی کے لیے کام کریں۔ اس سے قبل ترک وزیرِ خارجہ حقان فیدان نے بھی سرکاری خبر رساں ادارے ‘انادولو’ کو دیے گئے بیان میں توقع ظاہر کی تھی کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس سہ فریقی بلاک میں شامل ہو جائے گا۔

ترک وزیرِ خارجہ کے مطابق مصر کی اس اتحاد میں شمولیت میں صرف چند تکنیکی امور رکاوٹ ہیں جنہیں جلد حل کر لیا جائے گا۔ اگرچہ مصر نے فی الوقت اس معاہدے یا ترک وزیرِ خارجہ کے بیان پر کوئی رسمی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم حقان فیدان جلد ہی قاہرہ کا اہم دورہ کرنے والے ہیں جہاں ان خدشات اور تکنیکی امور پر مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔