LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بغیر پائلٹ کے مسافر طیارے نے پہلی پرواز کامیابی سے مکمل کرلی اقوام متحدہ نے ایران جنگ ختم کرانے کیلئے پاکستان سے رابطے کی تصدیق کردی قوم کی حمایت سے دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل کرتارپور میں بابا گورو نانک کی 487ویں برسی کی تین روزہ تقریبات کا آخری روز این سی سی آئی اے کی غیرقانونی کال سینٹر پر کارروائی،17 غیر ملکیوں سمیت 100 افراد زیر حراست کوہاٹ پولیس لائنز حملے میں 869 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال ہوا: بم ڈسپوزل رپورٹ اسحاق ڈار کی نیویارک میں اہم ملاقاتیں، اسلام آباد یادداشت پر عمل درآمد پر زور امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کا ٹرمپ کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ پاکستان اور سعودیہ میں سرکاری و سفارتی پاسپورٹ پر ویزا شرائط ختم حوثیوں کے حملے: برطانیہ کا سعودیہ کو دفاعی فضائی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ فرانس کا حوثیوں سے فوجی کشیدگی ختم، امن مذاکرات میں شامل ہونے کا مطالبہ امریکا کی ایران جنگ سے متاثرہ خلیجی ممالک کو 5 ارب ڈالر کے فنڈز کی پیشکش امریکا اور ڈنمارک کی 2 نئے فوجی اڈے قائم کرنے کی منصوبہ بندی ایران جنگ نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں نیا بحران پیدا کر دیا: امریکی میڈیا امریکی صدر اپنے سیاسی کیریئر میں مقبولیت کی کم ترین سطح پر آگئے

مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک میں بھی شامل ہوں گے: ترک صدر

Web Desk

12 August 2026

ترک صدر رجب طیب اردگان نے امید ظاہر کی ہے کہ حال ہی میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے تاریخی اور اہم سہ فریقی دفاعی معاہدے میں آنے والے دنوں میں مزید ممالک بھی شامل ہوں گے۔ عالمی اخبار ‘الشرق الاوسط’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کے حوالے سے ان کا ویژن صرف تین ممالک تک محدود نہیں ہے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کو امید ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ مزید وسعت اختیار کرے گا اور شاید ایک دن ایسے حالات اور فضا پیدا ہو جائے کہ خطے کے تمام اہم ممالک اس کے واحد دائرۂ کار میں یکجا ہو کر علاقائی امن و سلامتی کے لیے کام کریں۔ اس سے قبل ترک وزیرِ خارجہ حقان فیدان نے بھی سرکاری خبر رساں ادارے ‘انادولو’ کو دیے گئے بیان میں توقع ظاہر کی تھی کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس سہ فریقی بلاک میں شامل ہو جائے گا۔

ترک وزیرِ خارجہ کے مطابق مصر کی اس اتحاد میں شمولیت میں صرف چند تکنیکی امور رکاوٹ ہیں جنہیں جلد حل کر لیا جائے گا۔ اگرچہ مصر نے فی الوقت اس معاہدے یا ترک وزیرِ خارجہ کے بیان پر کوئی رسمی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم حقان فیدان جلد ہی قاہرہ کا اہم دورہ کرنے والے ہیں جہاں ان خدشات اور تکنیکی امور پر مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔