LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

امریکا کے وفاقی بجٹ خسارے میں ریکارڈ اضافہ

Web Desk

12 August 2026

امریکہ کو شدید مالیاتی دباؤ کا سامنا ہے جہاں جولائی کے مہینے میں وفاقی بجٹ خسارہ ریکارڈ 432 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق جولائی کا یہ بجٹ خسارہ گزشتہ سال اسی ماہ کے مقابلے میں 48 فیصد زیادہ درج کیا گیا ہے، جس نے امریکی معیشت اور حکومتی پالیسیوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران امریکی بجٹ خسارہ مجموعی طور پر 1.799 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 170 ارب ڈالر یعنی 10 فیصد زیادہ ہے۔ جولائی کے دوران امریکی حکومت کے مجموعی اخراجات ریکارڈ 766 ارب ڈالر رہے، جو سالانہ بنیادوں پر 22 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیرف ریفنڈز کی ادائیگیوں کے بعد جولائی میں امریکی کسٹمز سے خالص آمدنی منفی 8.55 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

معاشی ماہرین کے مطابق مالی سال کے اختتام میں ابھی 2 ماہ باقی ہیں لیکن بجٹ خسارہ پہلے ہی 1.8 ٹریلین ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ حکومتی اخراجات میں مسلسل اضافہ اور کسٹمز کی آمدنی میں ہونی والی کمی کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ روان مالی سال کے اختتام تک یہ خسارہ تمام تر سابقہ ریکارڈ توڑ سکتا ہے