LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں تیزی آ گئی: امریکی حکام کا دعویٰ بلوچستان کے اضلاع ژوب اور چمن میں 4.8 شدت زلزلے کے جھٹکے ایران کے حوالے سے صورتحال بہتر، امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے: ٹرمپ چین کا بھارت کے غیر قانونی قائم کردہ ’’اروناچل پردیش‘‘ کو تسلیم کرنے سے انکار سہ فریقی سکیورٹی معاہدہ آسٹریلیا کو مزید غیر محفوظ بنا دے گا: سابق وزیراعظم میلکم ٹرن طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد 24 لاکھ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم اتنے بڑے ہاتھ نہیں بانی کے اکاؤنٹ سے اپنے لئے ٹویٹس کروں: مشعال یوسفزئی محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ایران کو خطرہ ہوا تو عالمی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے، پاسداران انقلاب روس کا یوکرینی شہر زاپوریژیا میں سٹیل پلانٹ پر حملہ، 7 ملازم ہلاک یمنی حوثیوں کا فوجی سازو سامان لیجانے والے سعودی جہاز پر حملے کا دعویٰ علاقائی کشیدگی پر قابو پانے کیلئے کوششیں جاری رہیں گی: سعودی کابینہ پاکستان کا غزہ کی صورتحال پر اظہار تشویش، فلسطینیوں کو فوری تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ باب المندب کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہوگئی امریکا اور ایران میں امن سمجھوتے یا مفاہمت کے امکانات بڑھ گئے ہیں، خواجہ آصف

نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کردیا

Web Desk

9 August 2026

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “بورڈ آف پیس” کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس کو حقیقی اور مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا، اس وقت تک اسرائیلی فوج غزہ سے کسی بھی قسم کا انخلا نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل حماس کی محض ظاہری یا فرضی کمزوری کے بجائے اس کی عسکری صلاحیتوں کا مکمل اور حقیقی خاتمہ چاہتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے؛ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی کچھ تجاویز قابلِ قبول ہیں لیکن بعض نکات اسرائیل کے لیے بالکل نااہلِ قبول ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی اور معاشی بہتری کی جانب پیشرفت کے لیے یہ 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا دعویٰ تھا کہ یہ خطے کو تنازع سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔