LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران، عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستے کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے امریکا ایران کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا ثالثی کردار اہم رہا:ساؤتھ ایشین وائسز مکہ معاہدہ سعودیہ، پاکستان اور ترکیے کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے: بلاول پاکستان اور کشمیر کے مضبوط رشتے کو کوئی طاقت کمزور نہیں کرسکتی: رانا ثناء اللہ محسن نقوی نے شہداء اور غازیوں کیلئے سول اعزازات کی منظوری دے دی اسلامی تعاون تنظیم اور بحرین کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم پاک امریکا اقتصادی تعاون، سویا بین شعبے میں شراکت داری مزید بڑھانے پر اتفاق آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا ملک گیر غیر معینہ مدت ہڑتال کا آغاز مریم نواز کا صفائی نظام میں سخت مانیٹرنگ کا حکم، مزید بہتر بنانے کا ہدف تنقید کے باوجود امریکی آئی سی ای کارروائیاں جاری: جولائی کے مہینے میں 43 ہزار سے زائد افراد گرفتار جہلم اور سرائے عالمگیر میں زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ وزیراعظم کی مسجد نبویؐ اور روضہ رسولؐ پر حاضری، ملکی ترقی کیلئے دعائیں جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں: ایرانی صدر وقت آگیا ہے کہ امت مسلمہ اپنی طاقت پر بھروسہ کرے، ایرانی وزیر خارجہ امریکی مسلح افواج کے سربراہ کا صدر ٹرمپ کو ایران جنگ سے نکلنے کا مشورہ

مکہ معاہدہ سعودیہ، پاکستان اور ترکیے کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے: بلاول

Web Desk

8 August 2026

پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کو ملکی تاریخ کا اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے باضابطہ بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت ہے، جس سے تینوں دوست ممالک کی دفاعی صلاحیتیں مزید مضبوط اور مربوط ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے محفوظ اور باوقار مستقبل کی حتمی ضمانت ثابت ہوگا۔

سابق وزیرِ خارجہ نے اس تاریخی پیش رفت کو ممکن بنانے پر وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ دفاعی معاہدہ نہ صرف تینوں مسلم ممالک کے مفادات کا تحفظ کرے گا بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے بھی ایک تاریخی اور تحریری دستاویز ثابت ہوگا۔