LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مریم نواز کا صفائی نظام میں سخت مانیٹرنگ کا حکم، مزید بہتر بنانے کا ہدف تنقید کے باوجود امریکی آئی سی ای کارروائیاں جاری: جولائی کے مہینے میں 43 ہزار سے زائد افراد گرفتار جہلم اور سرائے عالمگیر میں زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ وزیراعظم کی مسجد نبویؐ اور روضہ رسولؐ پر حاضری، ملکی ترقی کیلئے دعائیں جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں: ایرانی صدر وقت آگیا ہے کہ امت مسلمہ اپنی طاقت پر بھروسہ کرے، ایرانی وزیر خارجہ امریکی مسلح افواج کے سربراہ کا صدر ٹرمپ کو ایران جنگ سے نکلنے کا مشورہ خطے میں امن کے بعد علاقائی ممالک کے درمیان ملاقاتیں بحال ہو جائیں گی: کاظم غریب آبادی آبنائے ہرمز پر پیشرفت ہو رہی ہے، جلد ڈیل متوقع ہے: امریکی عہدیدار پاکستان کا سوڈان کے تمام فریقین سے فوری اور مستقل جنگ بندی پر عملدرآمد کا مطالبہ اقوام متحدہ کی سوات میں پولیس سٹیشن کے باہر خود کش حملے کی شدید مذمت سنگاپور نے 2026 میں دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ کا اعزاز حاصل کر لیا اٹلی کا تمام بڑے شہروں کے لئے شدید گرمی کا اعلیٰ ترین ’’ریڈ الرٹ‘‘ جاری سعودی ولی عہد، فرانسیسی صدر کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال مودی سرکار طلبہ کے گھروں میں غنڈے بھیج کر معافیاں منگوانے کی کوشش کررہی: راہول گاندھی

امریکی مسلح افواج کے سربراہ کا صدر ٹرمپ کو ایران جنگ سے نکلنے کا مشورہ

Web Desk

8 August 2026

امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ امریکی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنرل کین ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ جنگ بڑھانے کے فوجی آپشنز کے الٹے نتائج نکل سکتے ہیں اور تنہا فضائی طاقت کے بل بوتے پر یہ معرکہ نہیں جیتا جا سکتا۔ جنرل کین نے اس حوالے سے سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس کے سامنے بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاں صدر ٹرمپ زمینی افواج بھیجنے کے بجائے صرف فضائی حملوں کے ذریعے ایران کو ڈیل پر مجبور کرنا چاہتے ہیں، وہاں جنرل کین اور دیگر دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ حکمتِ عملی ناکام ہو جائے گی اور ایران میں پلوں و توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے عوام کی حمایت ملنے کے بجائے امریکہ مخالف جذبات بڑھیں گے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ اس آپریشن کی حمایت میں ہے جبکہ اسرائیل بھی اس تنازع کو مزید بڑھانے کا خواہا ہے۔