LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب بھر سے غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا کا عمل جاری جاپان میں 7.1 شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہوگئی، متعدد لاپتہ پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر انتخابات کو مسترد کر دیا، بانی چیئرمین کے بنیادی و انسانی حقوق کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کردی سعودی عرب اور سینٹ کام کے عراق میں ایران نواز گروپوں کے ٹھکانوں پر حملے گزشتہ 15 روز کے دوران امریکا سے مذاکرات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، کاظم غریب آبادی جنگ کے باعث ایران میں لاکھوں افراد کو روزگار اور معاشی مشکلات کا سامنا ایرانی میزائل حملے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان کے ضلع صور میں ایک بار پھر بمباری اسرائیل کے غزہ میں حملے جاری، مزید 4 فلسطینی شہید، 14 زخمی ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے ہیں، امریکی میڈیا کا دعویٰ ایران آبنائے ہرمز پر غیر ضروری مطالبات کر رہا ہے، امریکی حکام ایران میں رجیم تبدیلی کی کوششیں ناکام، رضا پہلوی اپوزیشن کو متحد کرنے میں ناکام یمنی حوثیوں کا سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کویت کی ایرانی حملوں کی شدید مذمت، خطے میں امن کیلئے خطرناک قرار دیدیا

اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبے کی شدید مذمت

Web Desk

28 July 2026

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے غیر قانونی منصوبوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے ایک اہم بیان میں سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کی قائم کردہ یہ بستیاں بین الاقوامی قانون کی شدید اور کھلی خلاف ورزی ہیں۔

انتونیو گوتریس نے زور دے کر کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی مسلسل آبادکاری کی پالیسی نہ صرف ‘دو ریاستی حل’ کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ یہ اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے درمیان ایک منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کو ناممکن بنا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے ایک بار پھر عام شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی حقوق و انسانی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کا بلا تفریق احتساب کیا جانا چاہیے۔