LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یورپی یونین بھی ایران کے خلاف اقتصادی آپریشن میں شامل ہو گئی: امریکا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ جاری حکومت کا جون 2027 تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقرر ایس ای سی پی کا بڑا سنگِ میل: اگست 2026ء میں 4,761 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، آئی ٹی سیکٹر سرِ فہرست کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ کے گلیئشرز کو پگھلانے کا باعث بن رہے ہیں، حیران کن انتباہ آئی ایس پی آر سمر انٹرنشپ پروگرام کے طلبہ کا پی ایم اے کاکول کا مطالعاتی دورہ بھارتی بیان بازی شرمناک، نارووال میں مندر طوفانی بارش سے متاثر ہوا: دفتر خارجہ پاکستانی شہری نے ابوظبی میں 1 کروڑ 50 لاکھ درہم کی لاٹری جیت لی وزیراعلیٰ مریم نواز کا سرگودھا میں مزید 7 الیکٹرو بسیں مہیا کرنے کا اعلان ’6 بچے ہیں، مزید نہیں پال سکتی‘ ماں نے 2 ماہ کے بچے کو برساتی نالے میں پھینک دیا چین ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے میں تعاون کیلئے تیار ہے: جے ڈی وینس این سی سی آئی اے کا چھاپہ، 6 لاکھ شہریوں کے فنگرپرنٹس، بائیو میٹرک ڈیٹا برآمد ایران کے معاملے پر درست فیصلہ کیا، ہم یہ جنگ پہلے ہی جیت چکے ہیں: ٹرمپ امریکی سینیٹربرنی سینڈرز کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مستقل پابندی لگانے کی تجویز اسرائیلی انتہا پسند وزیر کا غزہ سے فلسطینیوں کی بیرون ملک منتقلی کا منصوبہ پیش

’ امریکہ کی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی جس کا روس نے خیر مقدم کیا

Web Desk

7 December 2025

روس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’ماسکو کے ویژن سے ہم آہنگ‘ ہے۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے گذشتہ ہفتے جاری کیے گئے 33 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں یورپ کو ‘تہذیبی خاتمے’ کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں روس کو امریکہ کے لیے خطرہ نہیں سمجھا گیا۔

یورپی یونین کے حکام اور تجزیہ کاروں نے اس حکمتِ عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں استعمال ہونے والی زبان کریملن کے بیانیے سے ملتی جلتی ہے۔ ادھر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روسی خبر رساں ایجنسی ‘تاس’ کو بتایا ‘ہم جو تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں، وہ بڑی حد تک ہمارے ویژن سے مطابقت رکھتی ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ‘ہم اسے مثبت قدم سمجھتے ہیں۔ تاہم حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے اس دستاویز کا مزید تجزیہ کریں گے۔’

یورپی یونین کے حکام نے کہا کہ امریکہ نیٹو میں ‘ہمارا سب سے اہم اتحادی ہے لیکن آزادیِ اظہار جیسے معاملات حکمتِ عملی کا حصہ نہیں ہونے چاہییں۔’

جرمن وزیرِ خارجہ ویڈیفل نے کہا کہ ‘ہماری آزاد معاشرت کے ڈھانچے پر کسی کو مشورہ دینے کی ضرورت نہیں۔’

یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز نے اس حکمتِ عملی کو ‘انتہائی دائیں بازو سے بھی آگے’ قرار دیا۔ جبکہ سویڈن کے سابق وزیرِ اعظم کارل بلڈٹ نے کہا کہ ‘اس میں وہ زبان استعمال کی گئی ہے جو عام طور پر کریملن کے بیانیے سے ملتی ہے۔’

جبکہ امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ یہ حکمتِ عملی امریکہ کے عالمی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ رکنِ کانگریس جیسن کرو نے اسے ‘امریکہ کی عالمی حیثیت کے لیے تباہ کن’ قرار دیا۔