LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

فرش پر 362 کلو پی نَٹ بٹر پھیلا کر فنکار کو انوکھا خراجِ عقیدت

Web Desk

21 July 2026

نیدرلینڈز میں معروف اور روایات سے ہٹ کر کام کرنے والے تصوراتی فنکار (Conceptual Artist) وِم ٹی-شپرز کو منفرد انداز میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک میوزیم کے فرش پر 362 کلوگرام سے زائد پی نٹ بٹر (مونگ پھلی کا مکھن) پھیلا دیا گیا ہے۔ روٹرڈیم میں واقع ’ڈیپوٹ، میوزیم بوئجمانس فان بیوننگن‘ میں اس عجیب و غریب فن پارے کو دو ماہ کی نمائش کے لیے عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والا پی نٹ بٹر تقریباً 15 ہزار سینڈوچز بنانے کے لیے کافی ہے۔

وِم ٹی-شپرز، جن کا گزشتہ ماہ 83 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا، نے پہلی بار یہ تخلیق جسے ’پنڈاکاس فلور‘ (Pindakaasvloer) کہا جاتا ہے، 1969 میں پیش کی تھی۔ وہ ڈچ زبان میں بچوں کے مشہور شو ’سیسمی اسٹریٹ‘ کے کرداروں ارنی اور کرمٹ دی فراگ کے صداکار بھی رہے۔ ان کے فن پارے روایتی آرٹ کو چیلنج کرنے اور ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے مشہور تھے، جن میں شیشے کے ٹکڑوں اور نمک سے ڈھکے فرش بھی شامل تھے