LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

دہائیوں تک راستے سے گزرنے کیلئے استعمال ہونیوالے پتھر 19 کروڑ سال پرانے ڈائنا سور فوسلز ثابت

Web Desk

6 December 2025

چین میں 2 بھائی یہ دریافت کرکے دنگ رہ گئے کہ وہ دہائیوں سے جن چٹانوں کو راستے سے گزرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے، وہ درحقیقت 19 کروڑ سال پرانے ڈائنا سور کے قدموں کے نشانات پر مبنی فوسلز ہیں۔

چینی سائنسدانوں کی ایک تحقیق میں اس کا انکشاف کیا گیا۔ان چٹانوں کو صوبہ سیچوان کے گاؤں Wuli میں کچھ سال قبل دریافت کیا گیا تھا۔اس کے بعد انکشاف ہوا کہ ان چٹانوں کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی چھپی ہوئی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق ڈینگ برادرز نامی بھائیوں نے 1998 میں ان چٹانوں پر مرغی کے پنجوں جیسے نشانات دیکھے اور پھر انہیں راستے سے گزرنے کے لیے استعمال کرنے لگے۔اس گاؤں اور ملحقہ علاقوں کو چینی ڈائنا سورز کا گھر قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہاں سے کافی فوسلز مل چکے ہیں۔ان بھائیوں نے چٹانوں کو لگ بھگ 2 دہائیوں تک استعمال کیا۔207 میں جب مقامی سطح میں ڈائنا سورز کے حوالے سے دلچسپی بڑھی تو ایک بھائی کی بیٹی نے ان چٹانوں کی تصاویر آن لائن پوسٹ کیں تاکہ ان پر موجود نشانات کے بارے میں تفصیلات حاصل کرسکے۔ان تصاویر میں پنجوں کے نشانات موجود تھے اور انہوں نے مقامی ڈائنا سور میوزیم کی توجہ حاصل کرلی۔ایک ماہ بعد محققین نے تصدیق کی کہ ان چٹانوں پر کروڑوں سال پرانے ڈائنا سور کے قدموں کے نشانات موجود ہیں۔ڈینگ خاندان کی اجازت کے بعد ان چٹانوں کو تجزیے کے لیے میوزیم میں منتقل کیا گیا۔حال ہی میں سائنسدانوں نے ان چٹانوں پر کیے جانے والے تجزیے کے نتائج جرنل آف Palaeogeography میں شائع کیے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 8 چٹانوں میں 413 قدموں کے نشانات تھے جو کہ 18 سے 19 کروڑ سال پرانے ہیں۔محققین کے مطابق زیادہ تر نشانات Eubrontes اور Grallators ڈائنا سورز کے ہیں