LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر جل گئے ایرانی فوجی صلاحیتیں کمزور کرنے کا مشن، امریکا کے مسلسل ساتویں رات ایران پر حملے حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، تحریری معاہدہ طے پا گیا ایرانی وزارت توانائی کی شہریوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل 27 جولائی کو جب کشمیر میں ڈبے کھلیں گے تو ہر طرف شیر ہی شیر ہوگا: مریم اورنگزیب خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت، انکے فوجی ساز و سامان پر نظر ہے: ایران فارما سیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا: مصطفیٰ کمال خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی پٹرولیم قیمتوں کی ڈی ریگولیشن مسترد، پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کی دھمکی پاسدارانِ انقلاب کا قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم: پٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل ریکارڈ 31 روپے 5 پیسے مہنگا ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک

خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی

Web Desk

17 July 2026

بھارتی خلائی ادارے اسرو (ISRO) میں 120 خلائی سائنسدانوں کے اچانک استعفوں کے بعد بھارتی حکومت شدید پریشانی کا شکار ہو گئی ہے، جس کے ردعمل میں محکمہ خلاء نے سائنسدانوں کی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت اب سائنسدانوں کی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ڈیپارٹمنٹ ہیڈ نہیں کر سکے گا، بلکہ ہر کیس کی سماعت خلائی ادارے کے ہیڈ کوارٹر میں ہوگی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق گگن یان اور دیگر اہم خلائی منصوبوں پر کام کرنے والے ماہرین اور انجینئرز کی جانب سے استعفوں کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ سرکاری اداروں کا فرسودہ نظام اور نجی شعبے میں ملنے والی زیادہ تنخواہیں ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2020 میں نجی شعبے کے لیے خلائی میدان کھولنے کے بعد بھارت میں 400 سے زائد اسپیس اسٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں، جنہوں نے اب تک تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے اور یہی نجی ادارے اب سرکاری سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔