LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر مملکت آصف زرداری نے پانچ سمریوں اور بلوں کی منظوری دے دی کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا کو نشان امتیاز (ملٹری) سے نواز دیا گیا بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں دو کارگو جہازوں پر حملے، عملے کے تین ارکان ہلاک پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں، مراعات میں کئی دہائیوں کے دوران ہوشربا اضافہ عالیہ نیلم کا بڑا اعزاز، 23 خالی ججز کی آسامیاں پُر کرنے والی پہلی چیف جسٹس بن گئیں محسن نقوی ایران روانہ، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر اہم بات چیت متوقع ملکی ترقی اور خوشحالی پی ٹی آئی کو ہضم نہیں ہو رہی: عطا تارڑ آزاد کشمیر الیکشن: ایل اے 15 اور ایل اے 16 کے 23 پولنگ سٹیشنز پر ری پولنگ کا فیصلہ یوکرین کا مگ-29 لڑاکا طیارہ گر کرتباہ عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ امریکا ایران کشیدگی کے حل کے لیے دنیا کی نظریں پاکستان، قطر اور عمان پر مرکوز شامی عدالت نے معزول صدر بشارالاسد کو سزائے موت سنادی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بحرین کا خیرمقدم کسٹمز بانڈڈ وئیر ہاؤسز میں کسی بھی بے ضابطگی کی گنجائش نہیں: وزیراعظم موجودہ الیکشن میں لوگوں کی رائے پر حکومتیں نہیں بنیں: حافظ نعیم الرحمٰن

معاہدہ کرو ورنہ اگلا ہدف بجلی گھر اور پل ہوں گے، صدر ٹرمپ

Web Desk

15 July 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے سخت ترین مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے شدید وارننگ دی ہے کہ اگر تہران نے مذاکرات اور معاہدے کی راہ اختیار نہ کی، تو آئندہ ہفتے سے ایران کے اہم ترین توانائی کے مراکز، بجلی گھروں اور پلوں سمیت بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تہران خود انہیں روکنے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منگل کے روز امریکا نے ایران سے باقاعدہ رابطہ کر کے اسے تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، لیکن اگر اس میں پیش رفت نہ ہوئی تو حملوں کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں پہلے ہی کافی حد تک کمزور ہو چکی ہیں اور اب اس کے پاس طویل مزاحمت کی گنجائش نہیں بچی۔

دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے اپنے گزشتہ متنازع بیان سے بھی باضابطہ یوٹرن لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب یہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک یا فریق آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس وصول کرے، بلکہ اس کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ خلیجی ممالک ٹول کی ادائیگی کی بجائے براہِ راست امریکا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو ترجیح دیں۔