LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شہباز شریف اور نوازشریف کی امیر قطر سے ملاقات، سابق امیر قطر کے انتقال پر تعزیت خواتین کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ میرا خواب ہے: مریم نواز آبنائے ہرمز کے قریب نئی کشیدگی، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب یکے بعد دیگرے دھماکے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے نئی گج ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے تک عدالتی مداخلت پر پابندی اسلام نے 14 صدیاں قبل خواتین کو مساوات اور معاشی حقوق دیے: یوسف رضا گیلانی ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 2 اہلکار شہید، متعدد زخمی او آئی سی کانفرنس، خواتین کی ترقی مسلم دنیا کی خوشحالی کی ضمانت ہے: اعظم نذیر وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے، نواز شریف بھی ہمراہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مشترکہ طریقہ کار میں امریکا رکاوٹ بن رہا ہے: اسماعیل بقائی ضلع دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، متعدد مکانات اور رابطہ پل بہہ گئے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ نئی گج ڈیم کیس میں ہائی کورٹ کا حکم کالعدم یوکرینی صدر نے وزیراعظم یولیا کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت مستعفی وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے، سہیل آفریدی بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی تشکیل دے دی گئی

Web Desk

13 July 2026

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک اعلیٰ سطح کی پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ تاریخی اقدام پنجاب اسمبلی پریولیجز ایکٹ 1972 کے سیکشن 11 سی کے تحت اسپیکر ملک محمد احمد خان کی ہدایت پر عمل میں لایا گیا ہے۔ رکنِ اسمبلی سردار محمد اویس دریشک کو اس نو تشکیل شدہ جوڈیشل کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سید علی حیدر گیلانی (پارلیمانی لیڈر پیپلز پارٹی)، شوکت راجا، نورالامین وٹو، چوہدری افتخار حسین چھچھر، امجد علی جاوید، ذوالفقار علی شاہ، راحیلہ خادم حسین اور احمر رشید بھٹی شامل ہیں۔ اسپیکر کے مشیر اسامہ خاور گھمن کمیٹی کی قانونی کارروائی میں معاونت کریں گے۔ یہ کمیٹی اسمبلی کے استحقاق اور پارلیمانی نظم و ضبط سے متعلق اسپیکر کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنسز پر سماعت، تحقیقات اور کارروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔ کمیٹی کو نوٹس جاری کرنے، شواہد و دستاویزات طلب کرنے اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا خصوصی قانونی اختیار حاصل ہوگا اور جرم ثابت ہونے پر یہ سزا یا جرمانہ بھی عائد کر سکے گی، تاہم فوجداری یا دیوانی مقدمات اس کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں ہوں گے۔ اس نئی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے پہلے سرکاری افسر ڈی پی او قصور ہوں گے جن کا معاملہ اس فورم پر زیرِ سماعت لایا جائے گا۔