ستھرا پنجاب پراجیکٹ: مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی متعدد شکایات
Web Desk
9 July 2026
لاہور: “صفائی نصف ایمان ہے”۔۔۔ مگر کیا حکومت پنجاب کے اربوں روپے کے فلگ شپ پراجیکٹ ‘ستھرا پنجاب’ میں صفائی کے ساتھ شفافیت بھی موجود ہے؟ سال 2024ء میں شروع ہونے والے اس منصوبے کا بجٹ جہاں اب بڑھ کر 170 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، वहीं دوسری جانب یہ منصوبہ مالی بے ضابطگیوں، ٹھیکیداروں کی من مانیوں، اور غریب سینیٹیشن ورکرز کے شدید معاشی استحصال کا گڑھ بن چکا ہے۔
پنجاب بھر سے سامنے آنے والی احتجاجی لہر، تنخواہوں میں کٹوتی اور ایک نوجوان ورکر کی خودکشی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے اس ماڈل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت ورکرز کے استحصال کی سب سے ہولناک مثال گوجرانوالہ میں سامنے آئی۔ 7 جون 2026ء کو ‘امپیرئل ویسٹ مینجمنٹ کمپنی’ کے دفتر میں ذیشان نامی ایک نوجوان نے پوری تنخواہ نہ ملنے اور احتجاج کرنے پر نوکری سے نکالے جانے کے بعد مایوس ہو کر خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔ ذیشان 20 روز تک ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے بعد دم توڑ گیا۔
کاغذات میں مقررہ سرکاری تنخواہ کے برعکس، ٹھیکیدار اس کی تنخواہ سے 21 ہزار روپے ماہانہ کٹوتی کر کے اسے صرف 19 ہزار روپے ادا کر رہا تھا۔ ذیشان کی موت نے پورے پنجاب میں کام کرنے والے ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین کے پوشیدہ درد کو زبان دے دی ہے۔
ٹھیکیداری نظام (آؤٹ سورسنگ) کے باعث پنجاب کے لگ بھگ ہر ضلع میں ورکرز سڑکوں پر ہیں۔ ملازمین کو نہ تو ہفتہ وار چھٹیوں کے پیسے ملتے ہیں اور نہ ہی سوشل سیکیورٹی فنڈز جمع کیے جاتے ہیں، جبکہ دیر سے آنے یا پرفارمنس کا بہانہ بنا کر تنخواہیں آدھی کر دی جاتی ہیں۔یہاں 11,780 کنٹریکٹ ملازمین گزشتہ 3 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں، جن کی ذمہ داری ٹھیکیداروں پر ڈال کر ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے پلہ جھاڑ لیا ہے۔ 40 ہزار کے بجائے ورکرز کو صرف 15 سے 20 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور عید بونس نہ ملنے پر یکم جولائی کو پنجاب بھر میں تاریخی ہڑتال کی گئی، جہاں فیصل آباد میں ورکرز نے احتجاجاً کچرا سڑکوں پر بکھیر دیا۔ ‘کیگلک اینڈ کمپنی’ کے ورکرز دو ماہ سے واجبات کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ٹھیکیدار کمپنیاں نہ صرف مزدوروں کا خون چوس رہی ہیں بلکہ حکومتی خزانے کو بھی اربوں کا چونا لگا رہی ہیں۔ مئی 2026ء میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے فیصل آباد اور تاندلیانوالہ میں کام کرنے والی کمپنی ‘کیئرز کنسورشیم’ کے خلاف ایک ارب روپے کی کرپشن کی ایف آئی آر (FIR) درج کی۔
| کرپشن کا شعبہ | کاغذات میں دعویٰ | زمین پر اصل حقیقت | فراڈ کی نوعیت |
| ملازمین (اسٹاف) | مجموعی نفری | 633 گھوسٹ (جعلی) ملازمین | بغیر کام کیے کروڑوں کی تنخواہیں وصول کیں |
| کچرا کنٹینرز | 2,317 کنٹینرز | صرف 1,717 کنٹینرز موجود | 600 کنٹینرز کا کرایہ اور ڈیزل ہڑپ کیا گیا |
| ویسٹ انکلوئیرز | 118 انکلوئیرز | صرف 33 انکلوئیرز تعمیر ہوئے | 85 انکلوئیرز کے فنڈز ہضم کر لیے گئے |
اس کے علاوہ کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کے روٹس اور مائلیج (ڈیزل خرچ) کے جعلی ریکارڈز بنا کر حکومت سے اضافی ادائیگیاں وصول کی گئیں۔ یاد رہے کہ یہ پنجاب بھر میں کام کرنے والی 140 پرائیویٹ کمپنیوں میں سے صرف ایک کمپنی کی کہانی ہے۔
‘ستھرا پنجاب’ منصوبے کا مقصد صوبے کو صاف کرنا اور ہزاروں بیروزگاروں کو باعزت روزگار دینا تھا، مگر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا یہ ماڈل اب مافیا کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اگر حکومتِ پنجاب نے فوری طور پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ، تھرڈ پارٹی آڈٹ اور ٹھیکیداروں کے بجائے ورکرز کو براہِ راست بینک اکاؤنٹس میں پوری تنخواہ کی ادائیگی یقینی نہ بنائی، تو کرپشن کے یہ ڈھیر مزید گہرے اور ذیشان جیسے المناک واقعات مستقبل کا مقدر بنتے رہیں گے۔
متعلقہ عنوانات
اینکر مرید عباس سمیت 2 افراد کا قتل کیس، عاطف زمان کو 2 بار سزائے موت کا حکم
9 July 2026
بھارت سندھ طاس معاہدہ بحال کرے، پانی کو بطور ہتھیار بنانا قوانین کی خلاف ورزی ہے: اسحاق ڈار
9 July 2026
ظہران ممدانی کا ارجنٹینا و مصر کے میچ میں متنازع فیصلوں پر ردِعمل
9 July 2026
لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانے بحال، ویزا سروسز کا آغاز
9 July 2026
یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار
9 July 2026
فارن فنڈنگ کیس: چالان کی اسکروٹنی مکمل، بانی پی ٹی آئی و دیگر کے خلاف سماعت 7 ستمبر تک ملتوی
9 July 2026
بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا: افتخار احمد راؤ
9 July 2026
وزیراعظم سے کروشین وزیر خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق
9 July 2026