LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ظہران ممدانی کا ارجنٹینا و مصر کے میچ میں متنازع فیصلوں پر ردِعمل ستھرا پنجاب پراجیکٹ: مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی متعدد شکایات لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانے بحال، ویزا سروسز کا آغاز یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا: افتخار احمد راؤ وزیراعظم سے کروشین وزیر خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق حکومتِ پنجاب اور امریکن قونصلیٹ لاہور کا کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم اجلاس، اقتصادی سفارت کاری اور فعال خارجہ پالیسی کو وقت کی ضرورت قرار دے دیا ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ: مالی سال 26ء میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41.6 ارب ڈالر وطن بھیج دیے حکومت کا رواں مالی سال سے ہائبرڈ سکوک بانڈز کے اجرا کا فیصلہ محکمہ ایکسائز کا 25 ارب 43 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی: باقر قالیباف کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سروس معطل محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کچھ دیر پہلے ایران کی جانب معاہدے کیلئے رابطہ کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

بلوچستان میں کشیدگی برقرار: کوئٹہ میں 17 پولیس شہدا کی میتوں کے ہمراہ دوسرا دھرنا شروع، اہم شاہراہیں بند

Web Desk

9 July 2026

کوئٹہ: بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں سانحہ زیارت کے دوران شہید ہونے والے 17 پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے انصاف نہ ملنے پر میتوں کے ہمراہ ‘کوئلہ پھاٹک’ کے مقام پر ایک اور بڑا دھرنا دے دیا ہے۔

شہر میں دوسرے بڑے دھرنے کے آغاز کے باعث سمنگلی روڈ سے کوئٹہ شہر کی جانب آنے والی تمام ٹریفک اور رابطہ سڑکیں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 سانحہ ہنہ اوڑک کے شہدا کے لواحقین آج پانچویں روز بھی اپنے پیاروں کی میتیں سڑک پر رکھ کر ایئرپورٹ روڈ پر سراپا احتجاج ہیں۔سانحہ زیارت کے شہدائے پولیس کے لواحقین نے تازہ ترین احتجاج شروع کر کے شہر کا ایک اور اہم داخلی و خارجی راستہ بلاک کر دیا ہے۔

انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ سانحہ ہنہ اوڑک کے شہدا کی تدفین پانچویں روز بھی تاحال نہیں ہو سکی ہے۔ لواحقین کا مؤقف ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، وہ احتجاج ختم کریں گے اور نہ ہی تدفین کی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ اور حکام کی جانب سے مظاہرین کو منانے اور مذاکرات کی کوششیں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہیں، جس کے باعث کوئٹہ کے دو اہم ترین راستے (ایئرپورٹ روڈ اور سمنگلی روڈ) بلاک ہیں اور شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔