LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں لڑائی، 24 گھنٹوں میں 68 ہلاکتیں اسحاق ڈار سے ترک سفیر، برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں، علاقائی صورتحال پر مشاورت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے لاہور مال روڈ دھرنا 33 روز بعد ختم کر دیا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں: 17 دہشت گرد ہلاک، 9 جوان شہید، بھاری اسلحہ برآمد شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کیلئے مشعلِ راہ، لہو رائیگاں نہیں جائے گا: صدر، وزیراعظم امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو سزا سنا دی گئی

شیگیلا کے خلاف نئی ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج

Web Desk

8 July 2026

شیگیلا بیکٹیریا سے ہونے والی آنتوں کی خطرناک بیماری کے خلاف تیار کی جانے والی ایک نئی تجرباتی اورل (زبانی) ویکسین نے فیز ٹو کلینیکل ٹرائلز میں 89 فیصد مؤثر کارکردگی دِکھا کر طبی دنیا میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ معروف برطانوی طبی جریدے “دی لانسیٹ انفیکشیس ڈیزیزز” میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، امریکہ کے دو طبی مراکز میں 18 سے 49 سال کے 73 صحت مند افراد پر اس ویکسین کی آزمائش کی گئی۔ ‘ڈبلیو آر ایس 2’ (WRS2) نامی یہ زندہ لیکن کمزور کی گئی ویکسین شیگیلا سونئی کے خلاف تیار کی گئی ہے، جو دنیا بھر میں کروڑوں افراد میں شدید اسہال اور قے کا باعث بنتی ہے۔ ٹرائل کے دوران ویکسین کی دو خوراکیں لینے والے 34 افراد میں سے صرف 9 فیصد بیمار ہوئے، جبکہ پلیسبو لینے والے 81 فیصد افراد میں بیماری کی تشخیص ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیگیلا کی بعض اقسام فرسٹ لائن اینٹی بائیوٹکس کے خلاف تیزی سے مزاحمت پیدا کر رہی ہیں اور اس وقت مارکیٹ میں کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں، ایسے میں یہ نتائج ایک بڑی پیشرفت ہیں۔ تحقیق کے سربراہ رابرٹ ڈبلیو فرینک جونیئر کے مطابق، اگلے مرحلے میں خوراک کا تعین کر کے افریقہ جیسے شدید متاثرہ علاقوں میں بچوں پر اس کے بڑے پیمانے پر ٹرائلز کیے جائیں گے۔