LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر کل تہران کا دورہ کریں گے: ایرانی وزارت خارجہ ایس آئی ایف سی کی ریگولیٹری اصلاحات، کاروباری آسانیوں کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر میں بارشوں سے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کل سے 28 اگست تک برطانیہ کا سرکاری دورہ کریں گے ایران مزاحمت اور استقامت کے باعث دنیا کو حیران کرنے والی طاقت بن کر ابھرا: پزشکیان جماعت اسلامی کا 12 ربیع الاول کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان مہنگی منگوائی گئی چینی سستی برآمدکرنےکی اجازت، قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان چین کے بغیر امریکا کیلئے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنا ممکن نہیں: نیویارک ٹائمز بھارت کے قریب مال بردار بحری جہاز ڈوب گیا، 24 افراد لاپتا سویڈن: سکول میں تلوار بردار نوجوان کا حملہ، 17 سالہ طالبہ ہلاک اور تین زخمی بیلجیئم میں گاڑیاں بیچنے والا نوجوان ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد شہزادہ قرار افغانستان میں طالبان رجیم کی غیرقانونی پابندیاں، خواتین خودکشی پر مجبور ایرانی ہیکرز کے برطانیہ پر پہلے سائبر حملے کا انکشاف، پاور پلانٹ 4 روز تک بند رہا نائیجیریا میں مسلح افراد کے متعدد دیہات پر حملے، 40 افراد ہلاک، 100 سے زائد اغوا ایران کیخلاف معاشی جنگ سے امریکا کو کوئی کامیابی نہیں ملے گی، سابق امریکی وزیر دفاع

دنیا پور: تیز رفتار کار خوفناک حادثے کا شکار، ایک نوجوان جاں بحق، 4 شدید زخمی

Web Desk

4 July 2026

قومی شاہراہ پر مخدوم عالی کے قریب ایک تیز رفتار کار خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 4 افراد شدید زخمی ہو گئے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق، حادثے میں جاں بحق ہونے والے بدقسمت نوجوان کی شناخت 22 سالہ حارث مڑل کے نام سے ہوئی ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام زخمیوں کو مخدوم عالی ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے ایک نوجوان کی حالت انتہائی تشویشناک تھی، جس کے باعث اسے ابتدائی طبی امداد کے بعد نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا گیا ہے۔

 مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے تمام نوجوان پنیاں بنگلا کے رہائشی تھے جو کار میں سوار ہو کر جا رہے تھے۔ دوسری جانب، پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کار حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔