LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی: 26 ویں و 27 ویں آئینی ترامیم سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی، متن ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع کا حل صرف سفارت کاری ہے: چین نو ماہ میں 5,143 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 2,410 دہشت گرد ہلاک اور 3,518 گرفتار: محسن نقوی کی ایوان میں رپورٹ خیبرپختونخوا پولیس کا ڈرون اور اینٹی ڈرون نظام سیف سٹی سے منسلک امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا

کانگو میں ایبولا وائرس کے علاج کے ممکنہ طریقوں پر آزمائشی تحقیق کا آغاز

Web Desk

4 July 2026

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں پھیلے مہلک ایبولا وائرس کے علاج کے لیے ممکنہ ادویات کی آزمائشی تحقیق (Clinical Trials) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اہم سائنسی تحقیق کے تحت پہلے مریض کو شامل کر کے دوا دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جسے طبی ماہرین اس موذی وبا پر قابو پانے کی جانب ایک انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ کے مطابق، جمہوریہ کانگو میں اب تک 1 ہزار 460 سے زائد مریضوں میں ایبولا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ اس جان لیوا وائرس کے باعث 452 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایبولا وائرس کی اس مخصوص قسم کے لیے تاحال دنیا میں نہ تو کوئی منظور شدہ حفاظتی ٹیکہ (ویکسین) موجود ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ علاج دستیاب ہے۔

یہ آزمائشی تحقیق عالمی ادارۂ صحت کی براہِ راست سرپرستی میں انجام دی جا رہی ہے۔ اس کی نگرانی جمہوریہ کانگو کا قومی طبی تحقیقی ادارہ، بیلجیم کا ادارۂ امراضِ استوائی (Institute of Tropical Medicine) اور برطانیہ کی معروف آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دان مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ تحقیق کے دوران مریضوں پر وائرس کے خلاف مؤثر سمجھی جانے والی دو مختلف تجرباتی ادویات آزمائی جائیں گی تاکہ ان کے محفوظ ہونے اور وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت کا موازنہ کیا جا سکے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس وقت بھی کچھ مریض مضبوط مدافعتی نظام کے باعث علاج کے بغیر صحت یاب ہو رہے ہیں، تاہم اگر سائنسی طور پر محفوظ اور مؤثر ادویات سامنے آ گئیں تو مستقبل میں ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی۔ جمہوریہ کانگو کے وزیرِ صحت نے اس پیش رفت کو متاثرہ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے امید کی نئی کرن قرار دیا ہے۔