LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان متحدہ اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں مشترکہ کردار ادا کرنے کا اعلان اسحاق ڈار سے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت غزہ فلوٹیلا پر حملہ، ترکیہ نے نیتن یاہو کے عالمی گرفتاری وارنٹ جاری کر دیئے

کانگو میں ایبولا وائرس کے علاج کے ممکنہ طریقوں پر آزمائشی تحقیق کا آغاز

Web Desk

4 July 2026

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں پھیلے مہلک ایبولا وائرس کے علاج کے لیے ممکنہ ادویات کی آزمائشی تحقیق (Clinical Trials) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اہم سائنسی تحقیق کے تحت پہلے مریض کو شامل کر کے دوا دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جسے طبی ماہرین اس موذی وبا پر قابو پانے کی جانب ایک انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ کے مطابق، جمہوریہ کانگو میں اب تک 1 ہزار 460 سے زائد مریضوں میں ایبولا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ اس جان لیوا وائرس کے باعث 452 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایبولا وائرس کی اس مخصوص قسم کے لیے تاحال دنیا میں نہ تو کوئی منظور شدہ حفاظتی ٹیکہ (ویکسین) موجود ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ علاج دستیاب ہے۔

یہ آزمائشی تحقیق عالمی ادارۂ صحت کی براہِ راست سرپرستی میں انجام دی جا رہی ہے۔ اس کی نگرانی جمہوریہ کانگو کا قومی طبی تحقیقی ادارہ، بیلجیم کا ادارۂ امراضِ استوائی (Institute of Tropical Medicine) اور برطانیہ کی معروف آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دان مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ تحقیق کے دوران مریضوں پر وائرس کے خلاف مؤثر سمجھی جانے والی دو مختلف تجرباتی ادویات آزمائی جائیں گی تاکہ ان کے محفوظ ہونے اور وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت کا موازنہ کیا جا سکے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس وقت بھی کچھ مریض مضبوط مدافعتی نظام کے باعث علاج کے بغیر صحت یاب ہو رہے ہیں، تاہم اگر سائنسی طور پر محفوظ اور مؤثر ادویات سامنے آ گئیں تو مستقبل میں ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی۔ جمہوریہ کانگو کے وزیرِ صحت نے اس پیش رفت کو متاثرہ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے امید کی نئی کرن قرار دیا ہے۔