LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم

معیشت دباؤ سے باہر، جی ڈی پی نمو 3.7 فیصد سے زائد اور زرمبادلہ ذخائر 6 گنا بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر ہو گئے: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد

Web Desk

3 July 2026

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے نئے مالی سال کے آغاز پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی معیشت کی مجموعی صورتحال، میکرو اکنامک اعشاریوں اور مستقبل کے اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نئے مالی سال میں میڈیا سے رابطوں کو مزید فروغ دیا جائے گا، جس کے تحت مانیٹری پالیسی کیلنڈر میں پریس کانفرنسز کی تعداد کو ششماہی سے بڑھا کر اب سہ ماہی کر دیا گیا ہے، جبکہ کامرس رپورٹرز کے لیے تربیتی سیشنز اور ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2023ء میں ملکی معیشت شدید دباؤ کا شکار تھی، تاہم اب ہر سال معیشت بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہے اور میکرو اکنامک اعشاریے معاشی استحکام کی غمازی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ جی ڈی پی (GDP) کی نمو توقعات سے کچھ کم رہی ہے لیکن اس کے باوجود معاشی کارکردگی قابلِ ستائش ہے۔ تیسری سہ ماہی میں جی ڈی پی نمو 4 فیصد رہی، جبکہ اب ہمارا تخمینہ ہے کہ نظرِ ثانی شدہ سالانہ جی ڈی پی نمو 3.7 فیصد سے زائد رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا اصل ہدف 4 فیصد سے زائد تھا مگر زرعی نمو توقعات کے مطابق حاصل نہ ہونے سے رفتار کچھ کم ہوئی، جبکہ اس کے برعکس بڑے پیمانے کی صنعت (LSM) کی نمو 6 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے۔

مہنگائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گورنر نے بتایا کہ مالی سال 2026ء میں اوسط افراطِ زر (Inflation) 7.05 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے پیشگی تخمینے کے بالکل قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے باعث افراطِ زر میں کچھ خلفشار ضرور رہا، تاہم آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں مزید کمی واقع ہوگی۔

انہوں نے معیشت کے دو بڑے مسائل یعنی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور بجٹ خسارے پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بڑی کامیابی کا ذکر کیا کہ سال 2022ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17.5 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 4.7 فیصد) تھا جس نے ملکی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ تاہم، حالیہ مالی سال کے 11 مہینوں میں یہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہو کر 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرپلس میں تبدیل ہو چکا ہے، جس سے بیرونی کھاتوں کی پوزیشن مکمل متوازن ہو گئی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ ذخائر کے حوالے سے گردش کرنے والی چہ مگوئیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ذخائر بیرونی قرضوں سے نہیں بلکہ انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری کے ذریعے بڑھائے گئے ہیں اور یہ رقم اسٹیٹ بینک کو کسی کو واپس نہیں کرنی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 سالوں کے دوران پاکستان پر بیرونی قرضے 100 ارب ڈالر پر ہی برقرار رہے اور ان میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جبکہ دوسری طرف اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر محض 3 ارب ڈالر سے 6 گنا بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ جون 2026ء کے دوران 5 ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیاں بھی کی گئیں، اگر یہ ادائیگیاں نہ کرنی پڑتیں تو مرکزی بینک کے ذخائر اس وقت 23 ارب ڈالر ہوتے۔ اس کے علاوہ کمرشل قرضوں کو کثیر الجہتی اداروں کے طویل مدتی قرضوں سے تبدیل کر دیا گیا ہے جس سے بانڈ مارکیٹ کے پریمیئم میں واضح کمی آئی ہے۔ انہوں نے اسمگلنگ کی روک تھام اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں ریٹنگ مزید بہتر ہوگی۔

بریفنگ میں ترسیلاتِ زر کے شاندار گراف کو سامنے لاتے ہوئے بتایا گیا کہ سال 2023ء میں ترسیلاتِ زر 27.3 ارب ڈالر تھیں جو 2025ء میں بڑھ کر 38.3 ارب ڈالر ہوئیں۔ مالی سال 2026ء میں یہ حجم 41.5 ارب ڈالر سے زائد رہے گا جو بینک کے تخمینے کے مطابق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک-امریکا یا ایران-امریکا کشیدگی کے دوران یہ خدشات تھے کہ ترسیلاتِ زر گر جائیں گی، مگر اسٹیٹ بینک نے ماضی کی جنگوں کا تجزیہ کر کے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے جو کہ کوئی بڑا بحران نہیں تھا۔ نئے مالی سال 2027ء کے لیے ترسیلاتِ زر کی مضبوط پلاننگ کر لی گئی ہے اور یہ گزشتہ سال سے بھی بہتر رہیں گی۔ مزید برآں، حکومت کی سبسڈی اسکیموں کو بتدریج ختم کر کے مارکیٹ میکانزم پر منتقل کیا جا رہا ہے۔