LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم

مالی سال 27ء میں 44 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کا تخمینہ، رواں سال کے اختتام پر اسٹیٹ بینک قرض دینے کے قابل ہوگا: گورنر اسٹیٹ بینک

Web Desk

3 July 2026

گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر اور بینکنگ سیکٹر کی اصلاحات کے حوالے سے اہم پیش رفت اور مستقبل کے اہداف کا اعلان کیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق، آئندہ مالی سال 2027ء میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) کا حجم 44 ارب ڈالر تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوگا۔

گورنر نے زرمبادلہ کے ذخائر پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی بینچ مارک کے اصولوں کے مطابق پاکستان کے پاس کم از کم 3 ماہ کی درآمدات (Imports) کے برابر زرمبادلہ کے ذخائر ہونے چاہیئیں، اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک مثبت پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی واجب الادا ادائیگیاں (Liabilities) اب کم ہو کر صرف 95 کروڑ ڈالر رہ گئی ہیں۔

معیشت کی بحالی کے حوالے سے گورنر اسٹیٹ بینک نے ایک اہم اور خوش آئند نوید سناتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مرکزی بینک کی مالی پوزیشن اتنی مستحکم ہو جائے گی کہ اسٹیٹ بینک دوبارہ قرضے دینے کا متحمل (اہل) ہو سکے گا۔

اس کے علاوہ، کرنسی مارکیٹ کو دستاویزی اور ریگولیٹ کرنے کے لیے کیے جانے والے کریک ڈاؤن اور اصلاحات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کام کرنے والی 166 ایکسچینج کمپنیوں میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے، اور اب ان کی تعداد کو محدود کر کے صرف 18 ایکسچینج کمپنیوں تک کر دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔