LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی جی لبنانی داخلی سکیورٹی فورسز کی یو این عبوری امن فوج کے سربراہ سے ملاقات ایران نے امریکی قیادت میں علاقائی سکیورٹی مذاکرات مسترد کر دیے ایران کے سپریم لیڈر اور رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت اور تعزیت کے لیے پاکستان کی اہم سیاسی، مذہبی، سماجی اور میڈیا سے وابستہ سرکردہ شخصیات تہران پہنچ گئیں برطانیہ میں ‘بہادر پاکستانی’ کے چرچے: شعیب نیازی نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر مفرور مجرم کو دبوچ لیا ٹیلر سوِفٹ اور ٹریوس کیلس کی ممکنہ شادی آج: ‘3 جولائی’ کی تاریخ پر مداحوں کا جوش و خروش عروج پر پہنچ گیا ٹیلر سوِفٹ اور ٹریوس کیلس کی شادی آج میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ہوگی، سکیورٹی حکام نے تصدیق کر دی ٹیلر سوِفٹ اور ٹریوس کیلس نے خاموشی سے شادی کر لی، امریکی میڈیا کا دعویٰ پاک بھارت جنگ میں 11 طیارے تباہ ہوئے، ٹرمپ کے بیان پر مودی سرکار منہ چھپانے لگی آسٹریا کا تہران میں سفارت خانہ معمول کے مطابق فعال ہوگیا امریکا نے ایران کی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی ناقابل قبول قرار دیدی اسرائیلی طیاروں کی جنوبی لبنان کے ضلع بنت جبیل کی وادی پر بمباری اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، مذاکرات جنگ کا متبادل ہیں: جبران باسیل ٹرمپ انتظامیہ کو خدشہ تھا اسرائیل ایرانی مذاکرات کاروں کو قتل کر سکتا ہے: امریکی میڈیا پیدائشی شہریت کا کیس ہارنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کا پلان بی سامنے آگیا امریکا نے مغربی ایشیا میں امن و سلامتی کو مسلسل نظر انداز کیا: اسماعیل بقائی

حکومت برآمدات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام

Web Desk

3 July 2026

وفاقی حکومت گزشتہ مالی سال کے دوران برآمدات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کا سالانہ تجارتی خسارہ 7 ارب ڈالر تک بڑھ گیا ہے۔ یہ رقم آئی ایم ایف کے تقریباً تین سالہ بیل آؤٹ پیکیج کے کل حجم کے برابر ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 کے لیے برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا، تاہم برآمدی آمدن 6 فیصد کمی کے بعد صرف 30.1 ارب ڈالر رہ سکی۔ یوں حکومت ہدف سے 5.2 ارب ڈالر پیچھے رہ گئی۔ اس کے برعکس، بجٹ میں درآمدی ڈیوٹی میں نرمی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے درآمدات میں دو ہندسوں کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے تجارتی خسارے کو مزید گہرا کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ ناکامی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پلاننگ کمیشن نے قومی اقتصادی کونسل (NEC) کو سفارش کی تھی کہ معاشی مراعات کو تحفظ پسندی اور رینٹ سیکنگ کے بجائے پیداواری صلاحیت اور برآمدی کارکردگی سے منسلک کیا جائے۔ تاہم، حکومت نے اس سفارش پر عمل درآمد کرنے کے بجائے روایتی انداز میں عمومی نوعیت کی برآمدی سبسڈیز کا سلسلہ جاری رکھا۔

معاشی محاذ پر حکومت کو دوسرا بڑا دھچکا ٹیکس وصولیوں میں لگا ہے، جہاں حکومت مالی سال 2025-26 کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مقرر کردہ ہدف سے 975 ارب روپے (تقریباً 3.5 ارب ڈالر) کم ٹیکس جمع کر سکی۔ برآمدات میں مسلسل منفی رجحان اور ٹیکس اہداف میں ناکامی نے ملکی معیشت کی بنیادی ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔