LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ آئل ٹینکرز پر حالیہ حملے، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی سعودی عرب میں بدھ تک شدید گرمی، درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی عراق میں بس اور ٹرک میں تصادم، 7 سیاح جاں بحق، 23 زخمی آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے: ایران

اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، مذاکرات جنگ کا متبادل ہیں: جبران باسیل

Web Desk

3 July 2026

لبنان کے سابق وزیر خارجہ اور معروف سیاستدان جبران باسیل نے کہا ہے کہ انہیں اصولی طور پر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، کیونکہ مذاکرات ہمیشہ جنگ کا متبادل ہوتے ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ سے گفتگو کرتے ہوئے جبران باسیل نے واضح کیا کہ لبنان کو کسی بیرونی فریق پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے خود مذاکرات کرنے چاہئیں اور کسی دوسرے ملک کو لبنان کی نمائندگی کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل کی حمایت صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس کے ذریعے لبنانی عوام کے حقوق بحال ہوں، خطے میں پائیدار امن قائم ہو، اور کوئی بھی حتمی معاہدہ لبنان کے لیے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز ثابت نہ ہو۔

سابق وزیر خارجہ نے موجودہ فریم ورک معاہدے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے نتیجے میں حزب اللہ کی جانب سے فراہم کیا جانے والا دفاعی تحفظ تو ختم ہو گیا ہے لیکن اس کا کوئی متبادل پیش نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق، یہ معاہدہ شکل اور مواد دونوں اعتبار سے ناقص ہے کیونکہ اس میں لبنان پر تو متعدد ذمہ داریاں اور پابندیاں عائد کی گئی ہیں مگر اسرائیل پر کوئی واضح ذمہ داری نہیں ڈالی گئی۔

جبران باسیل نے خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر لبنانی فوج اور حزب اللہ کے درمیان تصادم اور خانہ جنگی کی فضا پیدا کرنا چاہتا ہے، جس سے ملک کو بچانے کی ضرورت ہے۔