LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی ایس 30 خیرپور پر ضمنی انتخاب 16 اگست کو ہوگا، شیڈول جاری نیٹو پر سب سے زیادہ خرچ ہم کرتے ہیں، باقی ممالک امریکا پر انحصار چھوڑیں، ٹرمپ ایئر چیف کا دورۂ بیلاروس، پاکستان دفاعی تعاون کے نئے مرحلے میں داخل دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس ، سنگاپور پہلے ، یو اے ای، جاپان اور جنوبی کوریا دوسرے نمبر پر انڈونیشیا میں علیحدگی پسندوں نے امریکی پائلٹ کو قتل کرکے طیارے کو آگ لگا دی پاکستان تحریک انصاف کا آزاد کشمیر کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی اسرائیل کے حوالے نہیں کریں گے؛ لبنانی صدر اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت پر اطمینان جنگ بندی غفلت نہیں، ایران دفاعی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے: ترجمان ایرانی فوج لبنان اور شام کے درمیان عدم مداخلت کا معاہدہ طے پا گیا دمشق میں کیفے کے قریب کار دھماکا، 5 افراد جاں بحق، 16 زخمی ٹرمپ کا نیٹو اتحادیوں پر دفاعی اخراجات بڑھانے پر زور تھائی لینڈ میں 11 سالہ بچے کی گاڑی بدھ مت راہبوں کے قافلے پر چڑھ گئی، 8 ہلاک پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لٹر کی جائے، حافظ نعیم الرحمان کا مطالبہ امریکا اور 12 ممالک کا آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ تجارت برقرار رکھنے پر اتفاق

ہیومن پلیسینٹا کیس: ایف آئی اے کی تحقیقات میں نئے انکشافات

Web Desk

2 July 2026

ہیومن پلیسینٹا (انسانی نال) کی غیر قانونی اسمگلنگ اور سپلائی کے کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تفتیش کے دوران انتہائی اہم اور ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، انسانی پلیسینٹا کو غیر قانونی طور پر اکٹھا کر کے اس سے ‘اینٹی ایجنگ’ (عمر کے اثرات چھپانے والے) مہنگے ترین انجکشن تیار کیے جاتے تھے۔ ان انجکشنز کی پاکستانی مارکیٹ میں قیمت 7 لاکھ روپے تک بتائی جاتی ہے۔

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث نیٹ ورک کا سراغ لگاتے ہوئے لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں مبینہ ایجنٹس کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کسٹمز اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے کردار کی بھی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ کسٹمز اہلکاروں کے اس غیر قانونی عمل میں ممکنہ طور پر ملوث ہونے کے پہلو کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حیرت انگیز انکشافات پر مبنی اس تحقیقات کے مطابق، حال ہی میں ویتنام بھیجی جانے والی 100 کلوگرام ہیومن پلیسینٹا کی ایک بھاری کھیپ کو موقع پر ہی روک لیا گیا تھا، جبکہ مختلف ہسپتالوں سے ہر ماہ تقریباً 200 کلوگرام پلیسینٹا غیر قانونی طور پر اکٹھا کیا جاتا تھا۔ ذرائع ایف آئی اے کے مطابق، اس کیس کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور اس گھناؤنے کاروبار اور اسمگلنگ میں ممکنہ طور پر ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔