LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

سپین کے صدیوں پرانے سکے نے نیلامی میں نیا ریکارڈ قائم کردیا

Web Desk

2 December 2025

سپین کے بادشاہ فلپ سوم کے دور 1609ء میں تیار کیا گیا ایک نایاب سونے کا سکہ ریکارڈ توڑ 28 لاکھ 17 ہزار 500 سوئس فرانک یعنی تقریباً 3.49 ملین ڈالرز میں فروخت ہوا جو کہ یورپ کی نیلامی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔

حیرت انگیز طور پر 339 گرام وزنی یہ منفرد سکہ سونے سے تیار کیا گیا تھا جو ہسپانوی فاتحین خاص طور پر امریکا سے اسپین کے شہر سیگوویا لائے تھے، سینسیلن کے نام سے مشہور یہ سکہ خاص طور پر شاہی طاقت اور دولت کو ظاہر کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق اس وقت اس سکے کی قیمت کئی سالوں کی اجرت کے برابر تھی، یہ نایاب سکہ کئی صدیوں تک گم رہا اور 1950ء کے آس پاس امریکا میں دوبارہ منظر عام پر آیا جہاں اسے ایک نیویارک کے ایک کلکٹر نے خریدا تھا اور اس کے بعد یہ کلکٹرز کے ہاتھوں منتقل ہوتا رہا مگر اس کے موجودہ خریدار کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔