LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان متحدہ اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں مشترکہ کردار ادا کرنے کا اعلان اسحاق ڈار سے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت غزہ فلوٹیلا پر حملہ، ترکیہ نے نیتن یاہو کے عالمی گرفتاری وارنٹ جاری کر دیئے

ویتنام میں دوسرے بچے کی پیدائش پر اضافی مراعات کا اعلان

Web Desk

2 July 2026

ویتنام نے ملک میں تیزی سے کم ہوتی شرحِ پیدائش اور بوڑھی ہوتی آبادی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ دو بچوں کی دہائیوں پرانی سخت پالیسی ختم کرنے کے ٹھیک ایک سال بعد، حکومت نے آج سے ملک بھر میں نئی اور پرکشش مالیاتی و سماجی مراعات نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

آج سے نافذ العمل ہونے والی اس نئی ریاستی پالیسی کے تحت، دوسرے بچے کی پیدائش پر ملازمت پیشہ ماؤں کو اب 6 ماہ کے بجائے 7 ماہ کی تنخواہ کے ساتھ زچگی کی چھٹی (Maternity Leave) دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور نومولود بچوں کے طبی معائنے کے تمام اخراجات پر حکومتی سبسڈی فراہم کی جائے گی، جبکہ مخصوص شرائط پوری کرنے والی ماؤں کو ایک مرتبہ نقد بونس بھی دیا جائے گا۔ اس سکیم کے تحت اہل ماؤں کو زیادہ سے زیادہ 228 امریکی ڈالر (تقریباً دو تہائی اوسط ماہانہ ملکی تنخواہ کے برابر) نقد بونس مل سکے گا۔

اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کی ویتنام میں سربراہ فام تھی لان نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ “یہ پالیسی حکومتی سوچ میں ایک بہت بڑی اور مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت اب خاندانی منصوبہ بندی پر زبردستی پابندیاں لگانے کے بجائے آبادی کی متوازن ترقی اور ترغیبات پر توجہ دی جا رہی ہے۔” واضح رہے کہ ویتنام میں کئی دہائیوں تک سرکاری ملازمین اور خاص طور پر کمیونسٹ پارٹی کے ارکان کو تیسرے بچے کی پیدائش پر سخت تادیبی کارروائیوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جنہیں گزشتہ سال ختم کیا گیا تھا۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ویتنام میں فی خاتون شرحِ پیدائش گر کر محض 1.93 بچے رہ گئی ہے، جو آبادی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے درکار عالمی معیار (2.1 بچے) سے کہیں کم ہے، جبکہ اوسط عمر بڑھ کر 75 سال تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ رواں صدی کے وسط تک 60 سال سے زائد عمر کے بزرگ افراد ملک کی کل آبادی کا ایک چوتھائی (25 فیصد) حصہ ہوں گے، جس کے بعد ملکی آبادی باقاعدہ سکڑنا شروع ہو جائے گی۔

ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر شرحِ پیدائش فوری نہ بڑھی تو مستقبل میں افرادی قوت (لیبر فورس) کی شدید کمی ہو جائے گی اور معاشی ترقی کا پہیہ سست پڑ جائے گا۔ اگرچہ حکومت نے نقد بونس کو اہم قدم قرار دیا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف نقد رقم کافی نہیں ہوگی؛ جب تک رہائش، بچوں کی دیکھ بھال، اور تعلیم کے مستقل اخراجات میں حکومتی معاونت فراہم نہیں کی جاتی، لوگوں کو زیادہ بچوں پر آمادہ کرنا مشکل ہوگا۔ ایک حالیہ سرکاری سروے کے مطابق بھی 73 فیصد شادی شدہ افراد نے اعتراف کیا کہ ان کے مالی حالات بچوں کی تعداد کے فیصلے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔