LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.3 ریکارڈ کراچی میں شاہین فورس کا کامیاب آپریشن، مبینہ پولیس مقابلے میں دو ڈاکو ہلاک پاک چین دوستی نسلوں پر محیط، سی پیک سے تعاون مزید مضبوط ہوگا: چینی سفیر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کا وژن چین کی ترقی و خوشحالی کی بنیاد ہے: اسحاق ڈار اگر ایران نے امریکا پر حملہ کیا تو اس کا اسی انداز میں جواب دیا جائے گا: وائٹ ہاؤس امریکا نے ایران سے جوہری معاہدے کی امید ظاہر کر دی پاکستان کیلئے بڑی معاشی خوشخبری، ٹیکس وصولیاں پہلی بار 13 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئیں ایران سے معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں، اچھی ملاقاتیں ہوئیں، ٹرمپ ایران کو 3 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا ابتدائی معاہدہ طے پا گیا، عرب میڈیا کادعویٰ بارشیں ہی بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا پنجاب کے مختلف اضلاع کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ ہے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاریاں، آسمانی بجلی گرنے سے 2 بچے جاں بحق،مدرسے کی 15 طالبات زخمی کالام کی سیف اللہ جھیل میں کشتی الٹ گئی، 5 افراد جاں بحق، 3 زخمی فرانس میں صدارتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان، پہلا مرحلہ 18 اپریل اور دوسرا 2 مئی 2027 کو ہوگا صدر آصف علی زرداری سے وزرائے اعلیٰ سندھ اور بلوچستان کی کراچی میں اہم ملاقات ممکنہ سیلابی صورتحال اور خطرات سے بچاؤ کے لیےاقدامات جامع روڈ میپ کے تحت ترتیب دیے جائیں۔وزیراعظم

ٹیوشن سنٹرسانحہ میں بچ جانیوالی خاتون ٹیچر کا اسپتال سے پہلا بیان آگیا

Web Desk

1 July 2026

صوبائی دارالحکومت کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے دلخراش واقعے کا مقدمہ درج کر کے مالک مکان سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دوسری جانب لاہور جنرل ہسپتال میں زیرِ علاج متاثرہ خاتون ٹیچر انیلا کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔

ہسپتال میں زیرِ علاج خاتون ٹیچر انیلا نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ خراب مالی حالات کے باعث گزشتہ دو سال سے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہیں جبکہ ان کے شوہر منڈی کے پاس ریڑھی لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیوشن میں مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے آتے ہیں تاہم گزشتہ روز 20 سے 22 بچے موجود تھے۔خاتون ٹیچر کے مطابق بارش کی وجہ سے چھت ٹپکتی تھی جس کے باعث وہاں مرمت کا کام شروع کیا گیا تھا، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ چھت گر جائے گی۔ یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔ میری اپنی بیٹی کی حالت اب بہتر ہے اور وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہو چکی ہے لیکن میں ابھی تک اس سے مل نہیں پائی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق خاتون ٹیچر کی حالت اب خطرے سے باہر ہے اور انہیں ایک دو روز میں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ بچوں کے والدین کی تکلیف کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، جبکہ وزیر تعلیم پنجاب نے معصوم بچوں کی ہلاکت کو ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔

واقعے کا مقدمہ انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق چھت پر جاری مرمتی کام اور غفلت کے باعث یہ جانی نقصان ہوا کیونکہ چھت زیادہ وزن ہونے کی وجہ سے گری۔ اس افسوسناک حادثے میں 14 بچے جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے تھے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ مکان مالک سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور تفتیش مکمل ہونے پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔