سپریم کورٹ کا بہنوں کو 71 سال بعد وراثتی جائیدار میں حصہ دینے کا حکم
Web Desk
1 July 2026
سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کو وراثتی حقوق سے محروم کرنے کے خلاف ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے 71 سال بعد بہنوں اور والدہ کا حق بحال کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے بھائیوں کی جانب سے جائیداد پر قبضے کے لیے کیے گئے تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر خواتین کو وراثتی جائیداد میں سے حصہ دینے کا حکم جاری کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے نور محمد کی اپیل پر 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے اپنے فیصلے میں واضح اور سخت ریمارکس دیتے ہوئے قرار دیا کہ وراثت خاندان کے مرد افراد کی کوئی مہربانی یا صوابدید نہیں ہے، بلکہ یہ ہر وارث کا شرعی اور قانونی حق ہے جو مورث (والد یا جائیداد کے مالک) کے انتقال کے ساتھ ہی خود بخود منتقل ہو جاتا ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق، یہ تنازع 1955ء میں والد کے انتقال کے بعد شروع ہوا تھا، جب دونوں بھائیوں نے وراثتی جائیداد چالاکی سے اپنے نام منتقل کرا لی تھی۔ انہوں نے ایک ‘زبانی ہبہ’ (مبینہ تحفے) کو بنیاد بنا کر اپنی ہی سگی والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے مکمل محروم کر دیا تھا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ زبانی ہبہ جعلسازی اور خاندانی دباؤ کے ذریعے تیار کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کا بوجھ ہمیشہ اس فریق پر ہوتا ہے جو اس سے فائدہ حاصل کر رہا ہو۔ عدالت نے ماتحت عدالتوں (ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ) کے فیصلوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان عدالتوں نے بارِ ثبوت کا درست جائزہ لینے کے بجائے خود ہبہ کو ہی ثبوت تسلیم کر لیا، جو قانون کے سراسر منافی اور حقائق کے برعکس تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے سابقہ فیصلے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس زبانی ہبہ کو کئی دہائیوں تک چیلنج نہیں کیا گیا، تاہم سپریم کورٹ نے اس تاخیر کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ریکارڈ سے ثابت ہے کہ معاہدے کے بعد کئی برس تک والدہ اور بہنوں کو زمین کی آمدن سے حصہ ملتا رہا، جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اس مبینہ ‘ہبہ’ سے بالکل لاعلم رکھا گیا تھا اور ان کے ساتھ فراڈ ہوا۔
سپریم کورٹ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ خواتین کے وراثتی حصے علامتی یا اختیاری نہیں بلکہ لازمی حقوق ہیں۔ خواتین کو خاندانی عزت، روایات یا سماجی دباؤ کے نام پر محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست، عدالتیں اور ریونیو حکام خواتین کے حقوق کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں اور قانون کا جھکاؤ ہمیشہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کی طرف ہونا چاہیے۔ عدالتِ عظمیٰ نے سائلین کی اپیل منظور کرتے ہوئے تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلے یکسر کالعدم قرار دے دیے اور ریونیو حکام (پٹواری/تحصیلدار) کو فوری طور پر وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کر کے خواتین کو ان کا عملی حق دینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
متعلقہ عنوانات
سہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں عوامی خدمات بہتر بنانے کیلئے تین ماہ کی مہلت
6 July 2026
نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی
6 July 2026
پی سی بی کا بڑا اقدام؛ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں دنیا کی جدید ترین ‘ٹرو مین 3’ بولنگ مشین نصب
6 July 2026
اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی
5 July 2026
یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں
5 July 2026
عمران خان کی اہلیہ نے اپنے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا
5 July 2026
اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
5 July 2026
مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف
5 July 2026