LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان لبنان کے اکثریتی مسیحی قصبے رمیش کے میئر نے نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد کردیا لبنانی مسیحی دیہات نے حزب اللہ سے تحفظ کیلئے اسرائیل سے الحاق کا اظہار کیا: نیتن یاہو کا دعویٰ سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو سانحہ بلدیہ تفصیلی فیصلہ جاری, سزائے موت پانے والے ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا سہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں عوامی خدمات بہتر بنانے کیلئے تین ماہ کی مہلت نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن

دشت واقعہ انتہائی دل دہلا دینے والا ہے، معصوم لوگوں کو شہید کرنے والوں کے خلاف قومی بیانیہ بنایا جائے: وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی کراچی میں میڈیا سے گفتگو

Web Desk

30 June 2026

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور گورنر نہال ہاشمی نے کراچی میں دشت (بلوچستان) کے واقعے میں شہید ہونے والے تاجر علی مرتضیٰ جمیل کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے شہید تاجر کی بچیوں کی کفالت کی ذمہ داری بلوچستان حکومت کی طرف سے اٹھانے کا اعلان کیا اور اہلِ خانہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ علی مرتضیٰ جمیل کا قتل انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دشت میں سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ روز ہی ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (IBO) کیا ہے جس میں تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو غلط رنگ دے کر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، تاثر اور حقیقت میں فرق رکھنا ضروری ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں اپنی ناکامی اور سبکی مٹانے کے لیے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ “میں خود اس وقت آواران سے آ رہا ہوں، بلوچستان کا ایک انچ بھی ایسا نہیں ہے جہاں ہم یا حکومت کی رِٹ نہ جا سکے۔ ہزاروں کلومیٹر طویل ہائی ویز سے روزانہ مسافر بحفاظت گزرتے ہیں، لیکن جب دشمن چھپا ہوا ہو تو چیلنجز بڑھ جاتے ہیں۔” وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ بیانیے کے ذریعے تشدد کو بڑھاوا دینے کے بجائے، معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والے ان گمراہ عناصر کے خلاف ایک مضبوط قومی بیانیہ بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) تشکیل دے دی گئی ہے جو کام کر رہی ہے۔ بلوچستان میں حالات برسوں سے خراب ہیں، لیکن عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے اور ہمیں اس کا پورا احساس ہے۔