LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن صدر زرداری آج سے 9 جولائی تک کرغزستان کا سرکاری دورہ کریں گے ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان لبنان کے اکثریتی مسیحی قصبے رمیش کے میئر نے نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد کردیا لبنانی مسیحی دیہات نے حزب اللہ سے تحفظ کیلئے اسرائیل سے الحاق کا اظہار کیا: نیتن یاہو کا دعویٰ سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو سانحہ بلدیہ تفصیلی فیصلہ جاری, سزائے موت پانے والے ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا سہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں عوامی خدمات بہتر بنانے کیلئے تین ماہ کی مہلت نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی

قومی تعلیمی ایمرجنسی کے دو سال بعد بھی ملک میں اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر

Web Desk

6 July 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود اڑھائی کروڑ سے زائد بچوں کو اسکولوں میں لانے کی مہم بری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ یہ انکشاف سول سروسز اکیڈمی کی جانب سے تیار کی گئی ایک جامع تقابلی پالیسی جائزہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کیمپس میں قائم پانچ پالیسی اینالیسز گروپس نے چاروں صوبوں اور وفاقی اکائیوں کی تعلیمی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تعلیمی بحران وقتی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں ناکافی فنڈنگ، غیر مربوط انتظامی نظام، مسلسل مالی کمزوری اور ناقص طرزِ حکمرانی شامل ہیں۔ تمام صوبوں نے قومی تعلیمی ایکشن پلان (NEAP) 2026 کے تحت تعلیمی روڈ میپ تو بنائے، مگر اصل مسئلہ پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (PIE) کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ کے درمیان ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت مفت اور لازمی تعلیم کی آئینی ضمانت کے باوجود پاکستان دنیا میں تعلیمی محرومی کا دوسرا بڑا بوجھ اٹھانے والا ملک بن چکا ہے۔

اکیڈمی رپورٹ کے مطابق، 8 مئی 2024 کو لگائی جانے والی تعلیمی ایمرجنسی محض سیاسی توجہ کا مرکز بنی، کیونکہ ہر صوبے کے مسائل الگ ہیں جنہیں یکساں قومی حکمتِ عملی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔

ملک کا سب سے بڑا تعلیمی بوجھ اٹھا رہا ہے، جہاں 96 لاکھ سے 1 کروڑ 4 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، 64 لاکھ بچوں نے کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا جبکہ 31 لاکھ سے زائد بچے تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، 1990 سے 2010 کی دہائی تک آبادی جس رفتار سے بڑھی، سرکاری تعلیمی انفراسٹرکچر اس کا ساتھ دینے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سے نجی اسکولوں کا دائرہ تو بڑھا لیکن غریب اور پسماندہ طبقات کے بچے تعلیم کے بنیادی حق سے مستقل محروم ہو گئے۔