سندھ طاس معاہدے کے بغیر پاکستان اور بھارت میں پائیدار امن ممکن نہیں: بلاول بھٹو
Web Desk
30 June 2026
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پانی صرف جغرافیہ کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ ہماری خوراک، مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، جبکہ موجودہ دور میں آبی وسائل عالمی سیاست اور علاقائی سلامتی کا مرکزی تزویراتی مسئلہ بن چکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں سندھ طاس معاہدے (Indus Water Treaty) پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مصلحانہ خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے سمندری و آبی گزرگاہوں کی اہمیت کا احاطہ کیا۔ انہوں نے سائنسی تقابل پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ جس طرح آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ممکنہ بندش پوری عالمی معیشت کو مفلوج کر سکتی ہے، بالکل اسی طرح دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی بقاء اور زندگی کی واحد ضمانت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے انتباہ کیا کہ سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو تزویراتی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے، اور سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کا قیام مروجہ طور پر ناممکن ہے۔بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کے اہم ترین نکات اور تزویراتی مطالبات درج ذیل جدول میں دیکھے جا سکتے ہیں:تزویراتی پیرامیٹرچیئرمین پی پی پی کا مصلحانہ مؤقف اور تجزیہآبی حقوق کا فریم ورکسندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق بین الاقوامی قوانین کے تحت مروجہ اور تسلیم شدہ ہے۔قومی سلامتی کا درجہپانی کے مینوئل معاملے کو محض تکنیکی تنازع کے بجائے قومی سلامتی کے اہم ترین مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔معاہدے کی پاسداریپاکستان نے ہمیشہ جنگ بندی اور آبی ضوابط پر عمل کیا، جبکہ بھارت نے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری نہیں کی۔قومی عزم اور اتحادکروڑوں عوام کے حقِ آب کے تحفظ پر پوری قوم متحد ہے؛ آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا تزویراتی جواب دیا جائے گا۔انہوں نے اپنے تزویراتی خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سندھ محض ایک دریا کا نام نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی مروجہ زندگی، زراعت اور ملکی معیشت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پانی پر سیاسی دباؤ ڈالنا یا اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور مروجہ سفارتی معاہدوں کے سراسر منافی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں مستقل امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور آبی مفادات پر کسی بھی سطح پر کوئی مصلحت پسندی یا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
متعلقہ عنوانات
انویسٹ پاک پورٹل کا افتتاح، حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات دینے کیلئے پُرعزم
6 July 2026
ون ونڈو سہولت سے سرمایہ کاری کے عمل میں تیزی آئے گی: گورنر سٹیٹ بینک
6 July 2026
صدر، وزیراعظم کا شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کو خراجِ عقیدت
6 July 2026
منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام
6 July 2026
قومی تعلیمی ایمرجنسی کے دو سال بعد بھی ملک میں اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر
6 July 2026
بہاولنگر: مسلح کار سواروں نے 2 لڑکیوں کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا
6 July 2026
آج سے 10 جولائی تک بارشوں کا امکان، پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ
6 July 2026
امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو
6 July 2026