بھارت کی آبی جارحیت سے 6 ہزار پاکستانی جاں بحق ہو گئے: مصدق ملک
Web Desk
30 June 2026
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائی پانی کے بہاؤ کو تزویراتی طور پر کنٹرول کر کے اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ سراسر بین الاقوامی انصاف کا معاملہ ہے جس سے پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت خطے کے کروڑوں عوام متاثر ہو رہے ہیں۔اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے (Indus Water Treaty) پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مصلحانہ خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اصل مسئلہ پانی کی عدم دستیابی یا اس کا زیادہ بہاؤ نہیں، بلکہ پانی کے تزویراتی کنٹرول کا ہے۔ انہوں نے سائنسی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مرالہ ہیڈورکس پر ایک دن پانی کا بہاؤ انتہائی کم ہوتا ہے تو دوسرے ہی دن بھارت کی طرف سے سیلابی صورتحال پیدا کر دی جاتی ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک کی مروجہ بریفنگ کے اہم ترین سائنسی و سیاسی ابعاد درج ذیل جدول میں دیکھے جا سکتے ہیں:سفارتی و جغرافیائی پیرامیٹروفاقی وزیر کا مصلحانہ مؤقف اور تزویراتی تجزیہاصل تزویراتی مسئلہپانی کے قدرتی بہاؤ کو یکطرفہ طور پر کنٹرول کرنا اور اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا۔انسانی و جانی نقصانبھارتی آبی جارحیت اور مصنوعی سیلابوں سے 6 ہزار سے زائد پاکستانی جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے، جو جنگوں سے بھی بڑا نقصان ہے۔عالمی ثالثی عدالت کا فریم ورکعالمی عدالتِ ثالثی قرار دے چکی ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ ختم کر سکتا ہے نہ پاکستان کے حصے کے دریاؤں پر ذخائر بنا سکتا ہے۔عالمی اثرات کا تخمینہاگر یہ مضبوط ترین معاہدہ ناکام ہوا، تو دنیا کا ہر بالادست ملک اپنے سے نچلے (نشیبی) ملک کا پانی روک کر عالمی امن یرغمال بنا لے گا۔وفاقی وزیر نے بھارت کے عالمی کردار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نہ صرف ہمارے پانی کے مروجہ بہاؤ کو غیر قانونی طور پر کنٹرول کر رہا ہے، بلکہ وہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ نئی دہلی انتظامیہ عالمی ثالثی عدالت کے واضح اور مروجہ فیصلوں کو تسلیم کرنے سے بھی مسلسل انکاری ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے خطاب کے آخر میں قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تین بڑی عسکری جنگوں کے دوران بھی مینوئل فریم ورک کے تحت قائم رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں ایک بہت بڑے طبقے کا ذریعۂ معاش براہِ راست زراعت سے وابستہ ہے، اس لیے اسلام آباد اپنے حصے کے پانی پر کسی بھی قسم کا کوئی تزویراتی سمجھوتہ یا مصلحت پسندی اختیار نہیں کرے گا۔
متعلقہ عنوانات
انویسٹ پاک پورٹل کا افتتاح، حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات دینے کیلئے پُرعزم
6 July 2026
ون ونڈو سہولت سے سرمایہ کاری کے عمل میں تیزی آئے گی: گورنر سٹیٹ بینک
6 July 2026
صدر، وزیراعظم کا شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کو خراجِ عقیدت
6 July 2026
منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام
6 July 2026
قومی تعلیمی ایمرجنسی کے دو سال بعد بھی ملک میں اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر
6 July 2026
بہاولنگر: مسلح کار سواروں نے 2 لڑکیوں کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا
6 July 2026
آج سے 10 جولائی تک بارشوں کا امکان، پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ
6 July 2026
امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو
6 July 2026