LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں امریکا نے ڈیل کے تحت کیےگئے وعدے پورے نہ کیے تو مفاہمتی یادداشت پر عمل ترک کردیں گے: ایران چین میں سمندری طوفان باوی کا دوسرا وار، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور، پروازیں اور ٹرینیں معطل امریکی افواج نے حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا، ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں بلوچستان میں تاریخی انتظامی اصلاحات، 4 نئے ڈویژن اور 5 نئے اضلاع قائم جوہری ہتھیار ختم کرنے ہیں تو آغاز امریکا اور اس کے اتحادیوں سے کریں؛ شمالی کوریا نائب وزیراعظم کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، امریکا-ایران کشیدگی میں اضافے پر اظہارتشویش وینزویلا زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 333 ہوگئی؛ 17 ہزار افراد بے گھر یورپ کی آبنائے ہرمز پر جہازوں سے ’رضاکارانہ‘ نیویگیشن فیس لینے کی تجویز دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ اور سندھ کی روح ہے، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی، مراد علی شاہ امریکا: نو دریافت شدہ قدیم باقیات امریکی تاریخ بدل سکتی ہیں

امریکہ کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اڈوں کی ازسرِنو ترتیب، اسرائیل منتقلی پر غور

Web Desk

29 June 2026

امریکی میڈیا اور مقتدر تھنک ٹینکس کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ایران کی جانب سے کیے گئے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد پیدا ہونے والی تزویراتی صورتحال کے پیشِ نظر، امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود اپنے دفاعی ڈھانچے اور فوجی اڈوں کے کچھ حصے کو مزید مغرب کی جانب، ممکنہ طور پر اسرائیل منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایرانی میزائل حملوں نے خلیجی ممالک میں قائم دہائیوں پرانے امریکی فوجی اڈوں کی سیکیورٹی اور تزویراتی کمزوریوں کو واضح طور پر نمایاں کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے یہ جوابی حملے 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی بمباری شروع ہونے کے بعد کیے تھے؛ ان حملوں میں خطے بھر میں پھیلی امریکی اور اتحادی فورسز کی سیکیورٹی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جن میں اب تک کی غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق 13 امریکی فوجی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، تاہم پینٹاگون کی جانب سے جانی و مالی نقصانات کی مکمل سرکاری تفصیلات کو اب تک پبلک نہیں کیا گیا۔ معروف امریکی جریدے ‘وال سٹریٹ جرنل’ کے مطابق، ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مقامات میں بحرین میں واقع امریکی نیول سپورٹ ایکٹیویٹی (NSA) شامل ہے، جہاں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ (5th Fleet) کا مرکزی ہیڈکوارٹرز قائم ہے اور یہ اہم ترین اڈہ ایرانی سرحد سے محض 240 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں میں ففتھ فلیٹ کی مرکزی ہیڈکوارٹر عمارت، رہائشی بیرکس، لاجسٹک گوداموں اور پینے کے پانی کے بنیادی ذخائر کو شدید نقصان پہنچا، اور ابتدائی تخمینوں کے مطابق اس واحد اڈے کو تقریباً 400 ملین ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جسے پینٹاگون نے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا۔ ان ہائی پروفائل حملوں کے بعد امریکی محکمہ دفاع کے اندر خلیجی خطے میں اپنی طویل المدتی فوجی حکمتِ عملی پر نئے سرے سے نظرِ ثانی کا عمل شروع ہو گیا ہے؛ زیرِ غور تجاویز میں این ایس اے بحرین کے حساس کمانڈ مراکز کو زیرِ زمین (Bunkers) منتقل کرنا، دفاعی تنصیبات کو فولادی بنانا اور بعض زیادہ تباہ شدہ عمارتوں کو دوبارہ تعمیر نہ کرنے جیسے اہم تزویراتی اقدامات شامل ہیں۔

امریکہ اس وقت کویت اور سعودی عرب میں بھی اپنی فوجی موجودگی کا جامع جائزہ لے رہا ہے، جبکہ کچھ اہم جنگی اثاثے اور فضائی صلاحیتیں مزید مغرب کی جانب منتقل کرنے پر بھی مشاورت جاری ہے۔ اس ابتدائی تزویراتی منصوبہ بندی میں اسرائیل کو ایک محفوظ اور ممکنہ متبادل مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں رپورٹس کے مطابق موجودہ تنازع کے آغاز سے قبل ہی امریکی فوجی طیارے بن گوریون ایئرپورٹ پر ہنگامی طور پر تعینات کیے جا چکے تھے۔

دوسری جانب، مقتدر تھنک ٹینک ‘امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ’ (AEI) کی جاری کردہ ایک ہنگامی رپورٹ کے مطابق، ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں خطے کے 7 ممالک میں واقع 11 امریکی فوجی اڈوں کی مجموعی طور پر 70 سے زائد عمارتوں اور ہینگرز کو نقصان پہنچا، جس سے امریکہ کو مجموعی طور پر تقریباً 5 ارب ڈالر کا خطیر مالی نقصان ہوا ہے۔ رپورٹ میں پینٹاگون کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ایرانی میزائلوں کی درستگی اور ڈرونز کے مستقل خطرات کے پیشِ نظر، امریکہ کو نہ صرف خطے میں بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو کرنا پڑ سکتی ہے، بلکہ بعض انتہائی حساس اور کمزور فوجی تنصیبات کو مکمل طور پر ترک یا محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔