LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھے گا: فیلڈ مارشل گوادر میں تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام، 7 دہشتگرد ہلاک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز مشہور گیم سٹک رن کے بانی مینوئل اوٹو نے لائیو سٹریم کے دوران خودکشی کر لی پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا بند، سمگلنگ روکنے کیلئے کڑی نگرانی کا حکم سعودی عرب پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیا پاکستان اور کینیڈا کے طبی اداروں میں تعاون کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط طبی معائنے کے بعد نواز شریف وطن واپس، جاتی امراء روانگی چین میں زلزلے سے سینکڑوں مکان منہدم، 16 افراد ہلاک، پاکستان کی مدد کی پیشکش شوہر نے فٹبال میچ دیکھنے کی خاطر بیوی کو کرسی سے باندھ دیا بلوچستان کے شہر دالبندین اور ملحقہ علاقوں میں 5.1 شدت کا زلزلہ امریکی صدر ٹرمپ نے جلد ہی ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا اشارہ دے دیا نیویارک انتخابات: ووٹر رجسٹریشن کی آخری تاریخ 24 اکتوبر، All About USA کی جانب سے رہنما ووٹر گائیڈ جاری نیویارک میں سینٹرل پارک کی تاریخی بگھیوں پر پابندی کا بل منظور، 2028 میں صنعت کا خاتمہ ہوگا کینیڈا اور ترکیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے

سائنسدانوں کی بلیک ہول کے ‘پوائنٹ آف نو ریٹرن’ تک رسائی کا دعویٰ

Web Desk

28 June 2026

سائنسدانوں نے فلکیات کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے پہلی بار بلیک ہول کے ‘ایونٹ ہورائزن’ (Event Horizon) یعنی اس آخری سرحد کے نشانات دریافت کیے ہیں جہاں سے روشنی سمیت کوئی بھی چیز واپس نہیں آسکتی۔ بین الاقوامی تحقیقی جریدے ‘نیچر’ (Nature) میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، یہ تاریخی کامیابی دو بلیک ہولز کے انتہائی شدید اور ہولناک تصادم سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں (Gravitational Waves) کے جدید ترین تجزیے سے ممکن ہوئی۔

ایونٹ ہورائزن کو بلیک ہول کا ’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس حد کو عبور کرنے کے بعد کائنات کا کوئی بھی مادہ یا روشنی بلیک ہول کی شدید کششِ ثقل سے فرار حاصل نہیں کر سکتی۔ اسی وجہ سے اس پوشیدہ خطے کا براہِ راست مطالعہ ہمیشہ سے سائنسدانوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق، جب دو بلیک ہول آپس میں ضم ہو کر ایک واحد بلیک ہول بنتے ہیں، تو اس عمل کے دوران کائنات میں لرزہ خیز ثقلی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ سائنسدانوں نے اس بار تصادم کے آخری لمحات میں پیدا ہونے والی ’ڈائریکٹ ویوز‘ (براہِ راست لہروں) کو الگ کر کے ایونٹ ہورائزن کے انتہائی قریبی علاقے سے متعلق اہم معلومات حاصل کیں۔

کینیڈا کے ‘پیری میٹر انسٹی ٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس’ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر سِژینگ ما کا کہنا ہے کہ بلیک ہول کا ایونٹ ہورائزن اب تک محض سائنس فکشن کا حصہ محسوس ہوتا تھا، لیکن اب ثقلی لہروں نے اس کے آس پاس کے پُرِاسرار علاقے کا سائنسی مطالعہ ممکن بنا دیا ہے۔ اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے بلیک ہول کی تیز رفتار گردش کے باعث وقت اور خلا کے مڑنے کے عمل، جسے فزکس کی زبان میں ’فریم ڈریگنگ‘ (Frame Dragging) کہا جاتا ہے، کے شواہد بھی حاصل کیے۔ یہ نتائج البرٹ آئن اسٹائن کے ‘عمومی نظریۂ اضافیت’ (Theory of General Relativity) کی ایک بار پھر مکمل تائید کرتے ہیں۔ دوسری جانب، اس بڑی دریافت پر عالمی سائنسی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں بعض ماہرین نے ان نتائج کو کائناتی اسرار سلجھانے کی سمت میں ایک عظیم سنگِ میل قرار دیا ہے اور مزید آزادانہ تصدیق پر زور دیا ہے، وہیں چند سائنسدانوں نے اب بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ آیا ریکارڈ کی گئی لہروں سے واقعی ایونٹ ہورائزن کی خصوصیات کا سو فیصد درست اور براہِ راست اندازہ لگایا جا سکتا ہے یا نہیں۔