نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی 2026 کے تحت ریگولیٹر اتھارٹی بنانے کا فیصلہ
Web Desk
28 June 2026
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے ذیلی ادارے ‘پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی’ (PDA) نے ملک میں ڈیٹا مینجمنٹ اور سیکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک مرکزی ڈیٹا ریگولیٹر اتھارٹی بنانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، حکومت کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ ‘نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی 2026’ کے تحت پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو وسیع تزویراتی و قانونی اختیارات تفویض کیے جائیں گے؛ یہ اتھارٹی تمام وفاقی اداروں میں ڈیٹا گورننس کے مجموعی نظام کی نگرانی کرے گی، جبکہ تمام وفاقی و سرکاری اداروں کے لیے قومی ڈیٹا گورننس فریم ورک پر مکمل اور بلا تاخیر عمل درآمد یقینی بنانا قانونی طور پر لازمی ہوگا۔
ریگولیٹر اتھارٹی کے وضع کردہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی مستقبل میں ‘نیشنل اوپن ڈیٹا پورٹل’ اور ‘نیشنل ڈیٹا ایکسچینج پلیٹ فارم’ کی براہِ راست نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔ اتھارٹی ملکی سطح پر ‘نیشنل ڈیٹا کیٹلاگ’ کو محفوظ اور برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری اداروں کا باقاعدگی سے ڈیجیٹل آڈٹ بھی کرے گی؛ اس کے علاوہ، ایک بڑے انتظامی سٹرکچرل ریفارم کے تحت اب ہر وفاقی ادارے میں لازمی طور پر ایک ‘چیف ڈیٹا آفیسر’ (CDO) تعینات کیا جائے گا، جو متعلقہ ادارے میں ڈیٹا پالیسی پر عمل درآمد، ڈیٹا کے قانونی و محفوظ استعمال اور تعمیل (Compliance) کی مانیٹرنگ رپورٹ باقاعدگی سے ہائی کمان کو پیش کرنے کا پابند ہوگا۔
مجوزہ پالیسی کے تزویراتی خدوخال کے مطابق، ملک میں ایک اعلیٰ سطح کی ‘نیشنل ڈیٹا گورننس کونسل’ قائم کی جائے گی جس کی سربراہی خود پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے پاس ہوگی؛ اس کونسل میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، مقتدر ریگولیٹرز اور ڈیجیٹل میڈیا کے دیگر اہم شراکت داروں (Stakeholders) کے نمائندے شامل کیے جائیں گے۔ شفافیت اور کارکردگی کو جانچنے کے لیے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی جانب سے باقاعدہ ‘نیشنل ڈیٹا میچیورٹی انڈیکس’ بھی جاری کیا جائے گا، تاکہ مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی سالانہ ڈیجیٹل کارکردگی کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے۔
مزید برآں، گڈ گورننس کے اصولوں کے تحت تمام سرکاری اداروں کی سالانہ ڈیٹا گورننس کارکردگی رپورٹ کو پبلک کر کے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو کسی بھی ادارے کے ریکارڈ کے تفصیلی آڈٹ، اصلاحی اقدامات اٹھانے اور اپنی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے مکمل قانونی اختیارات حاصل ہوں گے؛ پالیسی دستاویز میں یہ واضح انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ قومی ڈیجیٹل فریم ورک کی مسلسل عدم تعمیل کرنے والے یا سیکیورٹی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف قابلِ اطلاق قوانین کے تحت سخت ترین تادیبی و قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026