LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر کا مسئلہ جذبات نہیں، عقل و دانش سے حل کیا جائے: مولانا فضل الرحمان مشرق وسطیٰ صورتحال، فریقین کو جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے، نائب وزیراعظم حافظ نعیم کی راجہ ناصر سے ملاقات، آزاد کشمیر کا مسئلہ افہام و تفہیم سے حل کرنے پر روز ایران نے لبنان سے اسرائیلی انخلا کی واضح ٹائم لائن مانگ لی یورپ میں شدید گرمی کی لہر کے دوران 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ: عالمی ادارۂ صحت فرانس میں اسکائی ڈائیونگ طیارہ گر کر تباہ، 11 افراد ہلاک ایرانی سپریم لیڈر کا امریکی و اسرائیلی حملوں پر قانونی کارروائی کا حکم آبنائے ہرمز کے اطراف اب بھی جھڑپیں، جنگ ختم ہونی چاہئے: ایران، عراق اسحاق ڈار کا بحرینی ہم منصب سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ایرانی حملے، بحرین کا سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ ایران کا امریکہ کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملہ، 3 جوان شہید ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی مکمل کی جائیگی: ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کیخلاف مزید سخت فوجی کارروائی کی وارننگ آج سے 3 جولائی تک وقفے وقفے سے پری مون سون بارشوں کی پیش گوئی دہشت گردی کے ہر فتنے کا پوری قوت سے خاتمہ کیا جائے گا: صدر، وزیراعظم

نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی 2026 کے تحت ریگولیٹر اتھارٹی بنانے کا فیصلہ

Web Desk

28 June 2026

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے ذیلی ادارے ‘پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی’ (PDA) نے ملک میں ڈیٹا مینجمنٹ اور سیکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک مرکزی ڈیٹا ریگولیٹر اتھارٹی بنانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، حکومت کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ ‘نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی 2026’ کے تحت پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو وسیع تزویراتی و قانونی اختیارات تفویض کیے جائیں گے؛ یہ اتھارٹی تمام وفاقی اداروں میں ڈیٹا گورننس کے مجموعی نظام کی نگرانی کرے گی، جبکہ تمام وفاقی و سرکاری اداروں کے لیے قومی ڈیٹا گورننس فریم ورک پر مکمل اور بلا تاخیر عمل درآمد یقینی بنانا قانونی طور پر لازمی ہوگا۔

ریگولیٹر اتھارٹی کے وضع کردہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی مستقبل میں ‘نیشنل اوپن ڈیٹا پورٹل’ اور ‘نیشنل ڈیٹا ایکسچینج پلیٹ فارم’ کی براہِ راست نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔ اتھارٹی ملکی سطح پر ‘نیشنل ڈیٹا کیٹلاگ’ کو محفوظ اور برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری اداروں کا باقاعدگی سے ڈیجیٹل آڈٹ بھی کرے گی؛ اس کے علاوہ، ایک بڑے انتظامی سٹرکچرل ریفارم کے تحت اب ہر وفاقی ادارے میں لازمی طور پر ایک ‘چیف ڈیٹا آفیسر’ (CDO) تعینات کیا جائے گا، جو متعلقہ ادارے میں ڈیٹا پالیسی پر عمل درآمد، ڈیٹا کے قانونی و محفوظ استعمال اور تعمیل (Compliance) کی مانیٹرنگ رپورٹ باقاعدگی سے ہائی کمان کو پیش کرنے کا پابند ہوگا۔

مجوزہ پالیسی کے تزویراتی خدوخال کے مطابق، ملک میں ایک اعلیٰ سطح کی ‘نیشنل ڈیٹا گورننس کونسل’ قائم کی جائے گی جس کی سربراہی خود پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے پاس ہوگی؛ اس کونسل میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، مقتدر ریگولیٹرز اور ڈیجیٹل میڈیا کے دیگر اہم شراکت داروں (Stakeholders) کے نمائندے شامل کیے جائیں گے۔ شفافیت اور کارکردگی کو جانچنے کے لیے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی جانب سے باقاعدہ ‘نیشنل ڈیٹا میچیورٹی انڈیکس’ بھی جاری کیا جائے گا، تاکہ مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی سالانہ ڈیجیٹل کارکردگی کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے۔

مزید برآں، گڈ گورننس کے اصولوں کے تحت تمام سرکاری اداروں کی سالانہ ڈیٹا گورننس کارکردگی رپورٹ کو پبلک کر کے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو کسی بھی ادارے کے ریکارڈ کے تفصیلی آڈٹ، اصلاحی اقدامات اٹھانے اور اپنی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے مکمل قانونی اختیارات حاصل ہوں گے؛ پالیسی دستاویز میں یہ واضح انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ قومی ڈیجیٹل فریم ورک کی مسلسل عدم تعمیل کرنے والے یا سیکیورٹی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف قابلِ اطلاق قوانین کے تحت سخت ترین تادیبی و قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔