یوٹیوب کا کم عمر صارف کی سوشل میڈیا لت سے متعلق مقدمے میں تصفیہ
Web Desk
25 June 2026
گوگل کے زیرِ ملکیت دنیا کے سب سے بڑے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ‘یوٹیوب’ (YouTube) نے امریکی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ایک 15 سالہ نوجوان کی جانب سے دائر کیے گئے سوشل میڈیا ایڈکشن (لت) کے ہائی پروفائل مقدمے میں باقاعدہ تصفیہ کر لیا ہے۔ اس مقدمے کے بعد گوگل اور دیگر ٹیک کمپنیوں کو بچوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے ایک بار پھر شدید قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔
مقدمے میں اصرار کیا گیا تھا کہ یوٹیوب اور دیگر الگورتھم بیسڈ پلیٹ فارمز کم عمر بچوں میں بڑھتے ہوئے شدید ذہنی صحت کے بحران، ڈپریشن، بے چینی (Anxiety) اور نیند کی مستقل کمی جیسے مہیب مسائل کو ہوا دینے کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ عدالتی دستاویزات میں سیکیورٹی اور رازداری کے پیشِ نظر نوجوان نے اپنی اصل شناخت ظاہر کرنے کے بجائے ’R.K.C‘ کے ابتدائی حروف استعمال کیے۔نوجوان آر کے سی کا الزام تھا کہ یوٹیوب اور دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں نے اپنے پلیٹ فارمز کے فیچرز کو جان بوجھ کر اس نفسیاتی انداز میں ڈیزائن کیا ہے کہ سکرولنگ کرنے والے کچی عمر کے صارفین ان کے عادی (Addicted) ہو جائیں اور اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اسکرین پر گزاریں۔اس تصفیے اور قانونی چارہ جوئی پر ردِعمل دیتے ہوئے گوگل کے مرکزی ترجمان خوسے کاستانیڈا نے میڈیا کو بتایا”یہ قانونی معاملہ اب خوش اسلوبی کے ساتھ حل کر لیا گیا ہے۔ ہماری تمام تر توجہ اور ترجیح بدستور ایسی عمر کے لحاظ سے موزوں (Age-Appropriate) مصنوعات کی فراہمی اور والدین کے مضبوط ڈیجیٹل کنٹرولز (Parental Controls) کی تیاری پر مرکوز ہے جو ہمارے حفاظتی وعدوں کو پورا کر سکیں۔”
یوٹیوب کے ساتھ معاملہ حل ہونے کے باوجود دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں
کم عمر صارف آر کے سی نے صرف یوٹیوب ہی نہیں بلکہ فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی ‘میٹا’ (Meta)، ٹک ٹاک (TikTok) اور اسنیپ چیٹ (Snapchat) کے خلاف بھی اسی نوعیت کے سنگین مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔ ان بقیہ تمام کمپنیوں کے خلاف مقدمات کی باقاعدہ عدالتی سماعت 27 جولائی سے امریکی شہر لاس اینجلس میں شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔
یہ عدالتی کارروائی ریاست کیلیفورنیا میں زیرِ التوا ایک ہزار (1,000) سے زائد اسی نوعیت کے بچوں کی ذہنی صحت اور سوشل میڈیا لت سے متعلق مقدمات کے سلسلے کا دوسرا سب سے بڑا اور اہم ترین ٹرائل ہوگا، جن کی عدالتی نگرانی لاس اینجلس سپیریئر کورٹ کی معزز جج کیرولین کوہل کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس کیس کو بچوں کے ڈیجیٹل حقوق اور کمپنیوں کی سیکیورٹی پالیسیوں کے حوالے سے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026